Jasarat News:
2026-07-24@00:49:19 GMT

اسرائیلی جنگی جرائم سے چشم پوشی

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260218-03-6
معلومات کے اس جدید دور میں جہاں کچھ اہم واقعات دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں، وہیں کچھ دوسرے مساوی اہمیت کے حامل واقعات نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں بھی ایسا ہی ہوا، جب عالمی میڈیا، بین الاقوامی اشرافیہ اور سرکردہ سیاست دانوں کی تمام تر توجہ ’ایپسٹین فائلز‘ (Epstein files) پر مرکوز رہی۔ وہ 30 لاکھ سے زائد ای میلز اور 1400 ویڈیوز کے اثرات پر غور کر رہے ہیں جن سے مغربی دارالحکومتوں میں ہلچل مچنے کا امکان ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اْن کے پاس اس کے علاوہ کرنے کے لیے کچھ نہیں۔ لندن، واشنگٹن، پیرس، برلن اور روم سمیت تمام بڑے دارالحکومت اسی معاملے میں الجھے ہوئے ہیں، اور یہی حال عالمی کارپوریٹ میڈیا کا ہے جو اس اسکینڈل کو چوبیس گھنٹے کوریج دے رہا ہے۔ لیکن امریکی کانگریس کی پرجوش تقریروں اور برطانیہ کے سیاسی طوفان سے پرے، ’الجزیرہ‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں اسرائیلی جنگی جرائم کے حوالے سے ایسے ہولناک انکشافات کیے گئے ہیں جو پہلے رپورٹ نہیں ہوئے تھے۔ عرب میڈیا ادارے کے مطابق، غزہ میں سول ڈیفنس ٹیموں نے 2,842 ایسے فلسطینیوں کی دستاویز تیار کی ہے جو اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ’’بخارات‘‘ بن کر اُڑ گئے (evaporated)۔ ان کے خون کے چھینٹوں یا گوشت کے چھوٹے ذرات کے سوا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہا۔

ماہرین اور گواہوں کے حوالے سے دوحا میں قائم اس میڈیا گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانی جسموں کا غائب ہو جانا بین الاقوامی سطح پر ممنوع ہتھیاروں کے استعمال کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق: ’’ماہرین اور عینی شاہدین اس رجحان کی وجہ اسرائیل کی جانب سے تسلسل کے ساتھ ان تھرمل اور تھرموبارک ہتھیاروں (ویکیوم یا ایروسول بم) کا استعمال بتاتے ہیں جو 3,500 ڈگری سیلسیس سے زیادہ درجہ حرارت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘‘۔ میڈیا آؤٹ لیٹ کا دعویٰ ہے کہ 2,842 کی یہ تعداد محض ایک اندازہ نہیں بلکہ غزہ کی سول ڈیفنس کی جانب سے کی گئی باقاعدہ فرانزک تحقیقات کا نتیجہ ہے۔ ترجمان محمود بصل نے الجزیرہ کو بتایا کہ ٹیمیں حملے کے مقامات پر ’خاتمہ کا طریقہ‘ (method of elimination) استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ’’ہم نشانہ بننے والے گھر میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں رہنے والے افراد کی معلوم تعداد کا برآمد ہونے والی لاشوں سے موازنہ کرتے ہیں۔ اگر خاندان ہمیں بتاتا ہے کہ اندر پانچ افراد تھے اور ہمیں صرف تین لاشیں ملتی ہیں، تو ہم بقیہ دو کو ’بخارات بن جانے والا‘ تب ہی قرار دیتے ہیں جب مکمل تلاشی کے باوجود حیاتیاتی نشانات، دیواروں پر خون کے چھینٹوں یا کھوپڑی کے بالوں جیسے چھوٹے ٹکڑوں کے سوا کچھ نہ ملے‘‘۔

الجزیرہ کی تحقیقات میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کس طرح اسرائیلی گولہ بارود میں موجود مخصوص کیمیائی اجزاء انسانی جسموں کو سیکنڈوں میں راکھ میں بدل دیتے ہیں۔ ایک روسی فوجی ماہر واسیلی فیٹیگاروف نے بتایا کہ تھرموبارک ہتھیار صرف قتل نہیں کرتے بلکہ مادے کو مٹا دیتے ہیں۔ روایتی بارود کے برعکس، یہ ہتھیار ایندھن کا ایک بادل پھیلاتے ہیں جو بھڑک کر ایک بہت بڑا آگ کا گولا اور ’ویکیوم اثر‘ پیدا کرتا ہے۔ فیٹیگاروف نے مزید بتایا کہ ایلومینیم، میگنیشیم اور ٹائٹینیم کے پاؤڈر اس کیمیائی آمیزے میں شامل کیے جاتے ہیں تاکہ جلنے کا وقت طویل ہو جائے، جس سے دھماکے کا درجہ حرارت 2,500 سے 3,000 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ ہولناک تفصیل کسی کے بھی رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہے۔

اسرائیل اس وحشیانہ کارروائی میں اکیلا نہیں تھا، بلکہ امریکا اور مغربی ممالک نے اسے تباہی کے یہ ہتھیار فراہم کیے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ شدید حرارت اکثر ’ٹرائٹونل‘ (tritonal) سے پیدا ہوتی ہے، جو ٹی این ٹی اور ایلومینیم پاؤڈر کا مرکب ہے اور امریکا کے بنائے ہوئے MK-84 جیسے بموں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ 900 کلوگرام وزنی بم 3,500 ڈگری سیلسیس تک حرارت پیدا کرتا ہے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا کہ ستمبر 2024 میں المواصی کے علاقے میں، جسے اسرائیل نے فلسطینیوں کے لیے ’’محفوظ زون‘‘ قرار دیا تھا، ’BLU-109 بنکر بسٹر‘ بم استعمال کیا گیا۔ یہ بم زمین میں گہرائی تک جا کر دھماکا کرتا ہے اور بند جگہوں کے اندر آگ کا گولا بنا کر ہر چیز کو خاکستر کر دیتا ہے۔ اسی طرح ’التابعین‘ اسکول پر حملے میں GBU-39 گائیڈڈ بم کے استعمال کا دعویٰ کیا گیا ہے، جو عمارت کو برقرار رکھتے ہوئے اندر موجود تمام جانداروں کے پھیپھڑوں کو ہوا کے دباؤ سے پھاڑ دیتا ہے اور ٹشوز کو جلا دیتا ہے۔ ٹی آر ٹی، مڈل ایسٹ آئی اور برطانیہ کے نووارا

میڈیا جیسے اداروں نے تو اس رپورٹ کا حوالہ دیا، لیکن زیادہ تر مغربی صحافی اور میڈیا ہاؤسز ان دھماکا خیز انکشافات سے لاتعلق رہے۔ یہی حال ان سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا رہا جو کھانا پکانے سے لے کر ٹرمپ کی باتوں تک ہر چیز پر تبصرہ کرتے ہیں لیکن یہاں خاموش رہے۔ بڑے مسلم ممالک نے بھی اس رپورٹ پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ انہوں نے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کرنے یا کوئی ہنگامی اجلاس بلانے کی زحمت نہیں کی، جبکہ ان سنگین جرائم پر عالمی برادری کو نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔

بے حس عالمی اشرافیہ سے امیدیں وابستہ کرنا فضول ہے، لیکن دنیا بھر میں کروڑوں باضمیر لوگ اب بھی موجود ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اپنی ٹیمیں غزہ بھیج کر ان حقائق کی تصدیق کریں۔ دنیا کو صرف ایران کے جوہری پروگرام پر ہی بات نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسرائیل پر بھی توجہ دینی چاہیے جو مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کر رہا ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو اسرائیل کے ایٹمی پروگرام کی حقیقت جاننے کے لیے وہاں اپنی ٹیمیں بھیجنی چاہئیں۔ سعودی عرب اور قطر جیسے عرب ممالک اس حوالے سے بہتر پوزیشن میں ہیں کہ وہ الجزیرہ کی رپورٹ کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کریں۔ ان ممالک کے مغرب کے ساتھ گہرے تعلقات اور بڑی سرمایہ کاری ہے۔ وہ اپنے اس اثر و رسوخ (soft power) کو استعمال کر کے مغربی عوام اور حکومتوں کو ان جرائم کے خلاف متحرک کر سکتے ہیں۔ اگر عرب اور مسلم ممالک کی جانب سے ٹھوس کوششیں کی جائیں، تو کوئی وجہ نہیں کہ سرمایہ دارانہ ممالک کے عوام اپنی حکومتوں کو ان وحشیانہ کارروائیوں کا حساب لینے پر مجبور نہ کر سکیں۔ (بشکریہ: دی نیوز)

عبد الستار سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق