Jasarat News:
2026-07-24@03:44:00 GMT

ایران بعض ’ریڈ لائنز‘ پر بات کیلیے تیار نہیں، امریکا

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن،جنیوا،ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا نے کہا ہے کہ ایران بعض ریڈلائنز پر بات کے لیے تیار نہیں،تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے تمام آپشنز استعمال کرینگے۔تفصیلات کے مطابق نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور بعض پہلوؤں سے تعمیری رہا ہے۔اپنے بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پْرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھی ہے، تاہم ایران ابھی تک صدر ٹرمپ کی مقرر کردہ بعض ’ریڈ لائنز‘ پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔نائب صدر کا کہنا تھا کہ امریکا سفارتی عمل جاری رکھے گا لیکن صدر ٹرمپ کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ کسی بھی وقت یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ سفارتکاری اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی کہ معاملات اس نہج تک نہیں پہنچیں گے اور مذاکرات کے ذریعے ہی حل تلاش کیا جائے گا، تاہم انہوں نے ان ریڈ لائنز کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔علاوہ ازیںجنیوا میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہو گیا ہے، جس کے بعد ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ معاہدے کے بنیادی اصولوں پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، تاہم کئی اہم معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے بعد کہا کہ معاہدے کی راہ شروع ہو چکی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سنجیدہ بات چیت ہوئی۔ ان کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان اہم نکات پر سمجھ بوجھ پیدا ہو گئی ہے لیکن کچھ اختلافی امور پر مزید بات چیت درکار ہے۔دوسری جانب امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران آئندہ دو ہفتوں میں اپنے جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی تجاویز پیش کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو کم کیا جا سکے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکام نے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا ذکر کیا، تاہم یہ بھی کہا کہ کئی اہم نکات پر ابھی مزید بات چیت ہونا باقی ہے۔ جبکہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا بالکل خواہاں نہیں اور اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنا پرامن جوہری پروگرام کبھی ختم نہیں کرے گا، تاہم اگر کوئی ملک یا عالمی ادارہ تصدیق کرنا چاہے تو ایران اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ایرانی صدر کے مطابق جاری مذاکرات کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن نوعیت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران بات چیت کے ذریعے اپنے مؤقف کو واضح کرنا چاہتا ہے تاکہ شکوک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔ادھر اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید درجنوں لڑاکا طیارے تعینات کر دیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان طیاروں میں ایف 35، ایف 16 اور ایف 22 شامل ہیں، جبکہ فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے ٹینکر طیاروں کی نقل و حرکت بھی دیکھی گئی ہے۔ اس پیش رفت کو خطے کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔دریں اثنا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو تباہ کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دباؤ میں آنے والا نہیں اور اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گا۔قبل ازیں خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے بعد روس اور چین نے بھی اپنے بحری بیڑے اتار لیے۔اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں روسی صدارتی معاون کا کہنا تھا کہ روس اور چین ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز میں مشترکہ بحری مشقیں کریں گے۔روسی صدارتی معاون نے بتایا کہ ان بحری مشقوں کا مقصد دوست ممالک کا ایک دوسرے کی بحری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیار ہے کہ ایران کہ امریکا کے درمیان کہا ہے کہ انہوں نے کے مطابق ایران کے ایران ا بات چیت نے کہا کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام

امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔

U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026

سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران