Jasarat News:
2026-06-02@22:18:13 GMT

ایران بعض ’ریڈ لائنز‘ پر بات کیلیے تیار نہیں، امریکا

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن،جنیوا،ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا نے کہا ہے کہ ایران بعض ریڈلائنز پر بات کے لیے تیار نہیں،تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے تمام آپشنز استعمال کرینگے۔تفصیلات کے مطابق نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور بعض پہلوؤں سے تعمیری رہا ہے۔اپنے بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پْرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھی ہے، تاہم ایران ابھی تک صدر ٹرمپ کی مقرر کردہ بعض ’ریڈ لائنز‘ پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔نائب صدر کا کہنا تھا کہ امریکا سفارتی عمل جاری رکھے گا لیکن صدر ٹرمپ کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ کسی بھی وقت یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ سفارتکاری اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی کہ معاملات اس نہج تک نہیں پہنچیں گے اور مذاکرات کے ذریعے ہی حل تلاش کیا جائے گا، تاہم انہوں نے ان ریڈ لائنز کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔علاوہ ازیںجنیوا میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہو گیا ہے، جس کے بعد ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ معاہدے کے بنیادی اصولوں پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، تاہم کئی اہم معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے بعد کہا کہ معاہدے کی راہ شروع ہو چکی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سنجیدہ بات چیت ہوئی۔ ان کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان اہم نکات پر سمجھ بوجھ پیدا ہو گئی ہے لیکن کچھ اختلافی امور پر مزید بات چیت درکار ہے۔دوسری جانب امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران آئندہ دو ہفتوں میں اپنے جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی تجاویز پیش کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو کم کیا جا سکے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکام نے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا ذکر کیا، تاہم یہ بھی کہا کہ کئی اہم نکات پر ابھی مزید بات چیت ہونا باقی ہے۔ جبکہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا بالکل خواہاں نہیں اور اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنا پرامن جوہری پروگرام کبھی ختم نہیں کرے گا، تاہم اگر کوئی ملک یا عالمی ادارہ تصدیق کرنا چاہے تو ایران اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ایرانی صدر کے مطابق جاری مذاکرات کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن نوعیت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران بات چیت کے ذریعے اپنے مؤقف کو واضح کرنا چاہتا ہے تاکہ شکوک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔ادھر اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید درجنوں لڑاکا طیارے تعینات کر دیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان طیاروں میں ایف 35، ایف 16 اور ایف 22 شامل ہیں، جبکہ فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے ٹینکر طیاروں کی نقل و حرکت بھی دیکھی گئی ہے۔ اس پیش رفت کو خطے کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔دریں اثنا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو تباہ کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دباؤ میں آنے والا نہیں اور اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گا۔قبل ازیں خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے بعد روس اور چین نے بھی اپنے بحری بیڑے اتار لیے۔اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں روسی صدارتی معاون کا کہنا تھا کہ روس اور چین ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز میں مشترکہ بحری مشقیں کریں گے۔روسی صدارتی معاون نے بتایا کہ ان بحری مشقوں کا مقصد دوست ممالک کا ایک دوسرے کی بحری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیار ہے کہ ایران کہ امریکا کے درمیان کہا ہے کہ انہوں نے کے مطابق ایران کے ایران ا بات چیت نے کہا کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار