Jasarat News:
2026-07-24@00:54:08 GMT

حنوط شدہ لاشوں کا سٹی اسکین‘ حیران کن انکشافات

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) جدید سی ٹی اسکین نے قدیم مصر کے رازوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے ماضی کے دریچے کھول دیے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یو ایس سی کی کیک میڈیسن کے ماہرین نے جدید ترین سی ٹی اسکین ٹیکنالوجی کی مدد سے 2قدیم مصری پجاریوں کی حنوط شدہ لاشوں کے اندر چھپے رازوں کو بے نقاب کر دیا جو 2200برس سے زائد عرصے سے محفوظ تھیں۔ یہ دونوں لاشیںپہلی نیس من (330 قبل مسیح) اور دوسری نیس ہور (190 قبل مسیح)کی ہیں۔ ان کی مکمل سی ٹی اسکین کے ذریعے جانچ کی گئی۔ حیرت انگیز طور پر سی ٹی اسکین سے نہ صرف ان کے چہرے کے خدوخال جیسے پلکیں اور ہونٹ واضح ہوئے بلکہ ان کی زندگی، صحت اور عمر کے بارے میں بھی اہم معلومات سامنے آئیں۔یہ نایاب ممیاں اور ان کے تھری ڈی ماڈلز 7 فروری کو کیلیفورنیا سائنس سینٹر میں منعقد ہونے والی نمائش میں عوام کے سامنے پیش کی گئے۔ ریڈیالوجسٹ نے 320 سلائس والے جدید ترین سی ٹی اسکینر کی مدد سے ممیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ نیس من کی ریڑھ کی ہڈی میں نچلے حصے کی ہڈی کے دب جانے کے آثار ملے، جو بڑھتی عمر اور جسمانی تھکن کا نتیجہ ہو سکتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے آج کے انسانوں کو کمر درد کی شکایت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ کئی نوادرات بھی دفن کیے گئے تھے، جن میں اسکارب (مقدس بھنورے) اور مچھلی کی علامتیں شامل تھیں۔ دوسری جانب نیس ہور کے اسکین سے دانتوں کے شدید مسائل اور کولہے کی ہڈی کے بْری طرح خراب ہونے کے شواہد ملے ۔ اندازہ ہے کہ وہ نیس من سے زیادہ عمر تک زندہ رہا۔ منصوبے کی قیادت کرنے والی ڈاکٹر سمر ڈیکر کے مطابق جدید ٹیکنالوجی نے ان ممیوں کو ایک نئی زندگی دی ہے۔ اسکین سے حاصل شدہ تصاویر کو جوڑ کر مکمل تھری ڈی ڈیجیٹل ماڈلز تیار کیے گئے پھر جدید میڈیکل گریڈ تھری ڈی پرنٹرز کے ذریعے ان کی ریڑھ کی ہڈی، کھوپڑی، کولہے اور ساتھ ملنے والے نوادرات کی حقیقی جسامت میں نقل تیار کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ممیوں کے اندر جھانک کر کسی فرد کی اصل زندگی کو سمجھنا بے حد سنسنی خیز تجربہ ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہمیں قدیم تہذیبوں کی دنیا میں ایک نئی جہت فراہم کرتی ہے۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سی ٹی اسکین کی ہڈی

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین