Jasarat News:
2026-07-24@03:06:58 GMT

قومی حکومت کی بازگشت!!

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260219-03-3
اس وقت ملک میںجو سنگین نوعیت کے مسائل ہیں ان کا حل ہم ایک ایسی قومی حکومت کی صورت میں دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کو ممکن بنایا جا سکے۔ اگرچہ پہلے ہی تمام سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی صورت میں موجودہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی قومی حکومت کا حصہ بنا کر ایک نئے نظام کی تشکیل پر زور دیا جا رہا ہے۔ فیصلہ ساز سمجھتے ہیں کہ اگلے دو تین برس کے لیے اگر ہم قومی حکومت پر اتفاق کر لیں تو اس سے ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام سمیت سیکورٹی کے مسائل بہتر ہو سکتے ہیں۔ قومی حکومت کی ترجیحات میں اصلاحات کا ایجنڈا ہو اور اس کو بنیاد بنا کر نئے انتخابات سے پہلے کچھ اس قسم کا نظام ترتیب دیا جائے جو آگے جا کر ایک مضبوط سیاسی نظام کا سبب بن سکے۔ اس میں کچھ لوگ بنگلا دیش کی مثالیں بھی دیتے ہیں جہاں ڈاکٹر یونس کی سربراہی میں بننے والی عبوری حکومت نے انتخابات سے پہلے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس کی بنیاد پر عام انتخابات کی راہ ہموار ہو سکی۔ قومی حکومت کی تشکیل کی باتیں اس لیے بھی ہو رہی ہیں کہ کچھ فیصلہ ساز سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیاسی بندوبست مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا ہے۔ اس حکومت نے معیشت کی ترقی کے جتنے بھی بڑے دعوے کیے تھے وہ سب غلط ثابت ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک مسلسل بری حکمرانی کے تناظر میں سخت گیر اصلاحات پر زور دے رہے ہیں۔ ان کے بقول اگر پاکستان نے اگلے کچھ عرصے میں ادارہ جاتی سطح پر سخت گیر اصلاحات نہ کیں تو وہ سیاسی اور معاشی استحکام حاصل نہیں کر سکے گا۔ قومی حکومت سے مراد یہ ہے کہ ہم فوری طور پہ نئے انتخابات کی طرف نہیں جانا چاہتے اور نہ ہی انتخابات کو مسئلے کا حل سمجھ رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہم قومی حکومت کی تشکیل کی طرف بڑھتے ہیں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ہمیں داخلی مسائل کا کوئی حل مل سکے گا؟ کیونکہ تمام سیاسی جماعتوں کا مل کر کام کرنا پاکستان کی سیاست میں کوئی آسان کام نہیں ہے۔ دوسرا اگر اقتدار کی بندر بانٹ میں ان تمام جماعتوں کو اقتدار کا حصہ بنا دیا جائے گا تو یہ کام کم اور ذاتی مفادات کے حصول پر زیادہ توجہ دیں گی۔ جیسے پیپلز پارٹی اس وقت براہ راست حکومت کا حصہ نہیں ہے لیکن اس کی وہ بھاری قیمت حکومت کی حمایت کی صورت میں وصول کر رہی ہے۔ قومی حکومت سے مراد یہ ہے کہ ہم اپوزیشن کے رول کو بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سب کو حکومت کا حصہ بنا دیا جائے تو اس سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ایک طرف قومی حکومت میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہو اور دوسری طرف اس حکومت میں ہم پروفیشنل یا ٹیکنوکریٹس کو شامل کر کے ایک اور نیا تجربہ کرنا چاہتے ہیں جو مزید ٹکراؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ آج ریاست کو جو مسائل درپیش ہیں وہ ان ہی بڑی جماعتوں کی وجہ سے ہیں۔ یہ تمام بڑی جماعتیں نہ تو اصلاحات کرنا چاہتی ہیں اور نہ ہی خود کو جواب دہ بنانا چاہتی ہیں۔ بلکہ اقتدار میں شامل ان جماعتوں نے آئین اور قانون کی حکمرانی کے بجائے ذاتی مفادات کو زیادہ محفوظ بنایا ہے۔ ایک ایسی قومی حکومت جس کو یقینی طور پر اسٹیبلشمنٹ کی حمایت تو حاصل ہوگی لیکن یہ عوامی حمایت سے محروم ہوگی۔ پہلے تو سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت میں شامل جماعتیں قومی مسائل کے حل میں کوئی بڑا کردار کیوں ادا نہیں کرسکیں۔ ان ہی بڑی سیاسی جماعتوں نے پچھلے کچھ برسوں میں ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کا بیڑا غرق کیا ہے اور الیکشن کی شفافیت پر بھی بنیادی نوعیت کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس وقت انسانی حقوق کی پامالی سمیت اظہار رائے کی آزادی اور عدلیہ کی خود مختاری پر بہت سے لوگ سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں۔ کیا یہ سب مسائل قومی حکومت کی موجودگی میں حل ہو سکیں گے اور کیا یہ قومی حکومت پاکستان کے معاشی مسائل کا کوئی مناسب حال پیش کر سکے گی؟ ہم ٹیکنوکریٹس کی بات تو بہت کرتے ہیں لیکن یہی ٹیکنوکریٹس عالمی مالیاتی اداروں کے تابعدار بن کر پاکستان پر قرضوں کا بوجھ اور زیادہ ڈال دیتے ہیں جس کی بھاری قیمت عوام کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم ایک نارمل ریاست کے طور پر چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور دنیا کی جدید ریاستیں جس طرح سے اپنے نظام کو چلانے کی کوشش کرتی ہیں ہم اس سے گریز کیوں کرتے ہیں۔ جب تک ہم اس ملک میں حکمرانی کے نظام کو حق کے حکمرانی کے ساتھ نہیں جوڑیں گے یعنی عوام کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔ لوگ سیاست سے اس لیے بھی بیزار ہوتے جا رہے ہیں کہ ان کو لگتا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔ پھر اس بات کی بھی کیا ضمانت ہے کہ جو قومی حکومت بنے گی وہ اصلاحات پر توجہ دے گی۔ اسی طرح قومی حکومت کی تشکیل کون کرے گا اور اس کا مینڈیٹ کس کو حاصل ہوگا یہ خود ایسے سوالات ہیں جن کا کوئی جواب ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں سیاسی تقسیم کی جڑیں کافی گہری ہیں اور سیاسی محاذ آرائی نے قومی سیاست کو بہت پیچھے دھکیل دیا ہے۔ لوگ تنقید کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور یہ تنقید عملی طور پر سیاسی دشمنی میں تبدیل ہو گئی ہے۔ جو کچھ عمران خان کے ساتھ جیل میں ہوا ہے اور جس طرح سے ان کے علاج کے حوالے سے حکومت نے کوتاہی یا مجرمانہ غفلت کی ہے وہ ظاہر کرتی ہے کہ ہماری سیاست میں ایک دوسرے کی قبولیت کے امکانات بہت کم ہیں۔کہا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی قومی حکومت میں شمولیت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ لیکن پی ٹی آئی تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے خلاف سیاست کرتی ہے وہ کیسے اس قومی حکومت کا حصہ بننے گی۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ عمران خان کسی بھی صورت میں قومی حکومت کے حامی نہیں ہیں اور قومی حکومت بنانے والے عمران خان کو نظر انداز کر کے پی ٹی آئی کے ایک بڑے دھڑے کو قومی حکومت کا حصہ بنا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ یعنی قومی حکومت بنے گی مگر یہ مائنس عمران خان اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ اس عمل سے پہلے سے موجود سیاسی ٹکراؤ میں اضافہ بھی ہوگا اور قومی حکومت ابتدا ہی میں متنازع ہوگی۔یہ ایک خوش فہمی ہے اور اس خوش فہمی کی بنیاد پر بنایا گیا کوئی بھی نظام تشکیل دے دیا جائے اپنے مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گا۔ اس لیے ہمیں پاکستان میں سیاسی مہم جوئی اور ایڈونچر کے کھیل سے گریز کرنا ہوگا۔ ماضی میں اس طرز کے کھیل نے پاکستان کو کمزور کیا ہے۔ ہمیں ایک نارمل طریقے سے سیاست اور جمہوریت کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا اور ایسی جمہوریت جس میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہو اور لوگوں کی بنیادی آزادیوں کو تسلیم کیا جائے۔ انتخابات منصفانہ اور شفاف بنیادوں پر ہوں اور لوگوں کے ووٹ کو تسلیم کیا جائے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیاسی جماعتوں قومی حکومت کی نہیں ہیں اور حکومت کا حصہ حکمرانی کے تمام سیاسی کا حصہ بنا حکومت میں پی ٹی ا ئی کی بنیاد دیا جائے کی تشکیل ہیں کہ ا ہے کہ ہم یہ ہے کہ رہے ہیں نہیں ہے ملک میں دیا جا اور اس ہے اور کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی