data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260219-03-4
آج دوسری تراویح میں سورہ البقرہ کے چھٹے پارے سے اختتام سورت تک تلاوت کی گئی۔ جو تیسرے پارے کے نصف تک مشتمل ہے۔ چھٹے رکوع کا آغاز میں نیکی کے حقیقی تصور کو اجاگر کیا گیا کہ نیکی صرف چند خود ساختہ رسوم کا نام نہیں بلکہ حقیقی نیکی ایمان کے ساتھ انفاق، نماز، قول کا پاس اور صبر جیسے نیک اعمال کا نام ہے۔ اس آیت کو آیت البر کہتے ہیں۔ اس رکوع میں قصاص کی فرضیت بیان کرکے اسے حیات انسانی قرار دیا گیا۔ اسی سے متصل وصیت کا حکم دیا گیا۔ روزوں کی فرضیت اور اس کا مقصد حصول تقویٰ بتایا گیا۔ روزے کے احکامات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک اور قرآن کے تعلق کو بیان کیا گیا کہ اسی مہینے میں قرآن مجید نازل کیا گیا جو سراسر لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ ماہ رمضان اور حج کے تعین کی مناسبت سے چاند کو اللہ کی نشانی اور ایام کے تعین کا ذریعہ بتایا گیا۔ ساتویں رکوع میں جہاد و قتال کا حکم اس غرض سے دیا گیا کہ فتنے کا خاتمہ اور اللہ کا دین نافذ ہوکر رہے۔ حج اور عمرے کے احکامات پر بات کی گئی اور اسلامی حج کو زمانۂ جاہلیت کے حج کے ممتاز کیا گیا کہ اس میں اپنے آبا و اجداد کے قصے کہانیوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرو۔ نوے رکوع میں انسانوں کو ایک امت قرار دیا گیا اور ان کے باہمی اختلافات کو ان کی اپنی اختراء قرار دیا گیا۔ دسویں رکوع میں شراب اور جوے کے متعلق ابتدائی احکامات نازل ہوئے اور موازنہ کرکے ان کے نفع کے مقابلے میں نقصانات کو زیادہ قرار دیا۔ مشرک خواتین سے نکاح سے روکا گیا۔
گیارہویں رکوع میں خواتین کے متعلق مسائل یعنی ماہواری، ایلاء، طلاق، عدت، رضاعت، خواتین کے نکاح ثانی اور مہر کے مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ ماہواری کو عورت کے لیے ایک تکلیف دہ عمل اور ناپاکی بتایا گیا۔ ایک ساتھ تین طلاقوں کے بجائے پاکی کی حالت میں ایک طلاق دینے کا طریقہ بتایا گیا۔ مطلقہ کی عدت تین ماہواریاں، حاملہ کی وضع حمل اور بیوہ کی چار مہینے دس دن اور رضاعت کی مدت دو سال بیان کی گئی۔
پندرھویں رکوع میں واقعاتِ بنی اسرائیل میں سے طالوت اور جالوت کا تذکرہ ہے۔ طالوت کو سموئیل ؑ نے نبی اسرائیل کا حاکم مقرر کیا کہ وہ جالوت سے مقابلہ کرے۔ اس پر اسرائیلیوں نے ان کی غربت اور عام انسان ہونے پر اعتراض کیا کہ ان کی جگہ کسی مالدار اور ذی نسب سردار کو منتخب کیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے جالوت کے مقابلے میں طالوت کو کامیاب فرمایا۔ اسی واقعے کو کفار و مشرکین کے اس اعتراض پر چسپاں کیا گیا کہ نبوت سرداری یا مالداری کی بنیاد پر نہیں بلکہ اللہ کے فضل و انتخاب سے ملتی ہے۔
سورہ البقرہ کے سترھویں رکوع میں آیت الکرسی تلاوت کی گئی جس میں اس کائنات پر حکمرانی، غلبے اور اقتدار اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ کو قرار دیا گیا۔ اٹھارویں رکوع میں سیدنا ابراہیم ؑ اور نمرود کا واقعہ بیان کی گیا۔ سیدنا ابراہیم ؑ نے نمرود کی حکمرانی کے مقابلے کے طور زندگی، موت اور نظام شمسی کو بطور دلیل پیش کیا جس سے وہ ششدررہ گیا۔ اس رکوع میں سیدنا عزیر ؑ کی سو سالہ نیند اور بیداری کا تذکرہ کرکے بتایا گیا کہ اللہ کے نزدیک تمہاری موت کی مثال اس نیند کی سی ہے وہ جب چاہے تمہیں موت کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ انیسویں رکوع میں انفاق فی سبیل اللہ کا حکم اور انفاق کی احسان جتلا کر ضائع کرنے سے منع کیا گیا۔ بیسویں رکوع میں سود کی حرمت بیان کرکے اسے تجارت کے مثل ہونے کی نفی کی گئی۔ اکیسویں رکوع میں ادھار کے باہمی لین دین کے معاملات بیان کیے گئے۔ ہدایت دی گئی کہ جب بھی ادھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور اس پر گواہ بھی مقرر کرلیا کرو تاکہ بعد میں نزاع سے بچا جا سکے۔ سورہ البقرہ کے آخری رکوع کو خواتیم بقرہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس رکوع میں اللہ کی توحید، آخرت، رسالت کے ساتھ ساتھ اللہ سے رحم و مغفرت کی دعائیں سکھائی گئیں ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قرار دیا گیا کیا گیا کہ رکوع میں ا بتایا گیا کی گئی
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔