Jasarat News:
2026-06-03@03:49:29 GMT

ظالمو! خوف کرو، یہ اللہ کا حکم ہے

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260219-03-7
خمریات اردو ادب کی معروف روایت ہے جس میں شراب، ساقی، میخانہ، سرمستی، بے خودی اور کیف وسرور کی کیفیات علامتی معنویت اختیار کر لیتی ہیں۔ میرتقی میر کا داخلی کرب ہو، مرزا غالب کا سوال، شک اور وجد کا امتزاج یا پھر حفیظ جالندھری اور فراق گورکھپوری کا رومانوی اور جمالیاتی رنگ، گفتگو کیسی ہی ہو، کسی سے بھی ہو۔ بنتی نہیں ہے بادہ وساغر کہے بغیر۔ اردو خمریات کا یہ رنگ فارسی شاعری کے گہرے اثرات خصوصاً حافظ شیرازی اور عمرخیام کی عطا ہیں جہاں مے اور میکدہ اکثر روحانی رمز بن جاتے ہیں۔

وہ مے جس سے روشن ضمیر حیات
وہ مے جس سے ہے مستی کائنات
وہ مے جس سے ہے سوزو ساز ازل
وہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازل

خمریہ شاعری کے حوالے سے غالب اور جگر کا نام خصوصی طور پر لیا جاتا ہے۔ شراب پر غالب کے بیش تر اشعار زبان زدعام ہیں۔ غالب چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی۔ پیتا ہوں روزابر وشب ماہتاب میں۔۔۔ اور ذرا جگر کا یہ شعر ملاحظہ کیجیے۔ شیشہ مست وبادہ مست، عشق مست و حسن مست؍ آج پینے کا مزہ پی کر بہک جانے میں ہے۔

اس حوالے سے ریاض خیرآبادی بھی ایک بڑا نام ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جو لوگ شراب پی پی کر شعر کہتے ہیں اور شعر کہہ کہہ کر شراب پیتے ہیں ان کے یہاں بھی شراب کے مضامین میں وہ بے ساختگی، ادائے بیان اور جذباتی ندرت نہیں ملے گی جو ریاض کے یہاں نظر آتی ہے۔ رندانہ روش ریاض کی فطرت میں شامل تھی لیکن لطف کی بات یہ کہ شراب پینا تو درکنار انہوں نے کبھی شراب کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ اس ضمن میں اگر عبدالحمید عدم کا نام نہ لیا جائے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے رندیہ شاعری کی بات ہی نہ کی گئی ہو۔ میں مے کدے کی راہ سے ہوکر نکل گیا؍ ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا ٭ کبھی تو دیرو حرم سے تو آئے گا واپس؍ میں مے کدے میں تیرا انتظار کرلوں گا ٭ کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں؍ جا میکدے سے میری جوانی اٹھا کے لا ٭ شکن نہ ڈال جبیں پر شراب دیتے ہوئے؍ یہ مسکراتی ہوئی چیز مسکرا کے پلا ٭ دیکھا ہے کس نگاہ سے تونے ستم ظریف؍ محسوس ہورہا ہے میں غرق شراب ہوں ٭ ان کو عہد شباب میں دیکھا؍ چاندنی کو شراب میں دیکھا ٭ جام لاکر قریب آنکھوں کے؍ آپ نے کچھ شراب میں دیکھا ٭ ساقی شراب لاکہ طبیعت اداس ہے؍ مطرب رباب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے ٭ ارے مے گسارو سویرے سویرے؍ خرابات کے گرد پھیرے پہ پھیرے

حیرت کی بات یہ ہے کہ ہماری مشرقی شاعری میں تو شراب کا ذکر اور اس کی توصیف ملتی ہے لیکن مغربی شاعری میں شراب کا گزر نہیں۔ احمد فراز جنہوں نے کہا تھا: نشے سے کم تو نہیں یاد یار کا عالم۔ انہوں نے شراب اور مغرب ومشرق کے اس تفاوت کی توجیہہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا ’’جو شے ممنوع ہوتی ہے اس میں رومان ہوتا ہے، کشش ہوتی ہے، چاہے وہ شراب ہو یا عورت‘‘ ایسا نہ ہوکہ پورا کالم شراب کے ذکر پر ہی تمام ہوجائے۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے عدم کا ایک قطعہ ملا حظہ کرلیجیے۔ کون ہے جس نے مے نہیں چکھی؍ کون جھوٹی قسم اٹھاتا ہے؍ مے کدے سے جو بچ نکلتا ہے؍ تیری آنکھوں میں ڈوب جاتا ہے۔

ادوادب میں خمریات کا یہ عالم تب ہے جب کہ اسلام میں شراب مکمل طور پر حرام ہے۔ پینے، بیچنے اور بنانے کسی چیز کی اجازت نہیں۔ ’’شراب‘‘ لفظ تو ایک ہے لیکن اردو ادب اور اسلام میں اس کے مفہوم کے میدان الگ الگ ہیں۔ ادب کی بزم میں مے کے شیشوں کی روشنی دلوں میں اُترتی ہے۔ میکدہ سنگ وخشت کی عمارت نہیں ایک باطنی کیفیت بن جاتا ہے۔ صوفیانہ روایت میں شراب عشق الٰہی اور معرفت کا کیف بن جاتی ہے مگر شریعت اسے قانون اور ضابطے کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اسے ام ّالخبائث، قطعی حرام، گناہ کبیرہ، ناپاک اور شیطانی عمل قرار دیتی ہے وہ جانتی ہے شراب ہوش وخرد سے بیگانہ کردیتی، عقل مائوف کردیتی ہے، انسان کو حیوانگی اور گناہ کی طرف مائل کرتی ہے، فرد اور خاندان کو برباد کردیتی ہے۔ معیشت اور امن عامہ کے مسائل پیدا کرتی ہے، ذمے داریوں سے غافل کردیتی ہے، اپنے پرائے کی تمیز ختم کرتے ہوئے معاشرتی ضرر کا باعث بنتی ہے۔

اسلامی قوانین فرد اور معاشرے کی حفاظت اور عقل اور نفس کی سلامتی کو اولیت دیتے ہوئے اسلامی حکومت کو پابند کرتے ہیں کہ وہ شراب اور ہرنشہ آور چیز پر پابندی لگائے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ شراب کی تیاری، فروخت اور عام استعمال کا سختی سے خاتمہ کرے اور شراب پینے والوں کو کوڑے لگائے۔ فقہ حنفی میں اس کی سزا 80 کوڑے جب کہ شافعی اور حنبلی میں 40 کوڑے ہیں جن میں حاکم وقت اضافہ کرسکتا ہے۔ فقہ مالکی میں بھی ایسی ہی سزائیں ہیں۔ اسلامی تصور ریاست میں خمر کا معاملہ فرد کی مرضی اور ذوق تک محدود نہیں رہتا، اس کی ممانعت محض اخلاقی نصیحت نہیں ہے ایک منضبط قانونی معاملہ ہے جس میں شراب اور نشہ آور اشیاء کی قطعی گنجائش نہیں۔ کوئی ریاست، حکومت، عوام، فرد اور اسمبلی، اکثریت یا اقلیت اس حرام کی قطعاً اجازت نہیں دے سکتیں۔

اب آئیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سندھ اسمبلی کی طرف۔11 فروری 2026 کو سندھ اسمبلی کے ہندو رکن انیل کمار نے ایک قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’شراب کی تمام خرید وفروخت پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ شراب ہر مذہب میں ناپسندیدہ ہے‘‘ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام اراکین اسمبلی کھڑے ہو کر اس قرارداد کی پر جوش تائید کرتے، وزیرداخلہ سندھ کھڑے ہوئے اور شراب پر پابندی کے محرک ہندو رکن کا مذاق اُڑاتے ہوئے بولے ’’میں اس کی مخالفت کرتا ہوں۔ تھوڑے جذباتی ہیں یہ میرے دوست۔ یہ ان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے۔ بہت بڑا طبقہ اس (شراب) سے محروم ہوجائے گا‘‘ تماشا دیکھیے ایک ہندو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے حکم کی تائید میں کھڑا ہے اور دوسری طرف ایک مسلمان اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے حکم کے خلاف کھڑا ہے۔ ستم درستم یہ کہ باقی اراکین اس پر یوں ہنس رہے تھے جیسے یہ ہنسی مذاق کا موقع ہو، کوئی لطیفہ سنایا جارہا ہو۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے ایک حکم کو رد کیا جارہا تھا اور سب یوں ٹھٹّا کررہے تھے جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔ انیل کمار نے اگر زرداری یا بلاول کا مذاق اُڑایا ہوتا تو پھر ان کا غصہ اور بپھرنا دیکھتے۔ اس موقع پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسپیکر اسمبلی مداخلت کرتے اور فرماتے کہ ایک معاملے میں جب اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا صریح حکم موجود ہے تو ہم اس میں مداخلت نہیں کرسکتے۔ قرآن کا واضح حکم ہے ’’اور کسی مسلمان مرد اور عورت کے لیے یہ نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں تو انہیں اپنے معاملے کا کچھ اختیار باقی رہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کاحکم نہ مانے تووہ بیشک صر یح گمراہی میں بھٹک گیا‘‘، (سورہ احزاب: 36) لیکن اسپیکر صاحب نے اس فرمان الٰہی کو نظرانداز کرتے ہو ئے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے شراب کی حرمت کے حکم کو حتمی فیصلے کے لیے اراکین اسمبلی کے سامنے پیش کردیا کہ وہ فیصلہ کریں کہ اللہ کا حکم تسلیم کیا جائے یا ٹھکرادیا جائے۔ اراکین اسمبلی نے جسے ٹھکرانے میں لمحہ بھر کی تاخیر نہیں کی۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا واضح حکم اس لیے رد کردیا گیاکہ جمہوریت میں فیصلے اکثریت سے ہوتے ہیں جس میں بندوں کوتو گنا جاتا ہے لیکن اللہ کے حکم کے وزن اور توقیرکو گھاس کی پتی کے برابر بھی وقعت نہیں دی جاتی۔ یہ ایم پی ایز اور اسپیکر اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کو کیا منہ دکھائیں گے؟ لیکن کسے فکر ہے؟

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اللہ سبحانہ وہ مے جس سے اراکین اس کرتے ہو جاتا ہے شراب پی کے حکم اور اس

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا