مُلک کا حقیقی طاقتور شخص؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیا تم یہ جانتے ہو کہ مُلک کا سب سے زیادہ طاقتور شخص کون ہوتا ہے؟ مَیں نے اپنے ساتھی سے یہ سوال کیا اور جواب طلب نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگا۔ اِس سوال کا جواب انتہائی آسان ہے کہ سپاہی بہت طاقتور ہوتا ہے اگر وہ وردی میں ملبوس ہو اور اُس کے پاس بندوق بھی ہو‘ میرا ساتھی یہ کہہ کر فاتحانہ اندا میں ہنسنے لگا۔ جب اُس کی ہنسی ذرا تھمی تو مَیں نے چھکّا مارنے کے انداز میں کہا: ’’یار! تم ابھی تک کنویں کے مینڈک بنے ہوئے ہو‘ تمہاری نظر میں طاقت کا معیار اگر ہتھیار اور وردی ہی ہے پھر تو فوج کا سربراہ سب سے زیادہ طاقتور شخص کہلائے گا کیونکہ اُس نے جو وردی زیب تن کی ہوتی ہے وہ انتہائی مہنگی ہوتی ہے اور اُس کے پاس پستول اور بندوق کے علاوہ توپ اور ٹینک بھی ہوتے ہیں‘‘۔ میرا ساتھی میرا استدلال سن کر خجل ہوگیا اور کہنے لگا پھر تم ہی کہو کہ تمہاری نظر میں طاقتور شخص کسے کہا جاسکتا ہے۔ مَیں نے کہا کہ اِس حوالے سے مَیں تم کو ایک مُلک کی کہانی سناتا ہُوں مجھے یقین ہے کہ اِس کہانی کے اختتام پر تم کو تمہارے اِس سوال کا جواب مل جائے گا۔ اِس سے قبل کہ مَیں کہانی کی ابتدا کروں تمہیں یہ بتلانا چاہوں گا کہ جس شخص کو عوامی حمایت حاصل ہوتی ہے وہی شخص طاقتور کہلاتا ہے اور جانوروں کو قابو میں رکھنے والا چرواہا کہلاتا ہے۔
بہرکیف! مَیں جس مُلک کی کہانی تمہیں سنانے والا ہُوں وہ مُلک ہے بھُوٹان۔ سولھویں صدی سے قبل بھوٹان میں کوئی مرکزی حکومت قائم نہیں تھی بس تم یوں یہ سمجھ لو کہ وہاں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والا معاملہ تھا‘ جو شخص بدن ہاتھ کا توانا ہوتا تھا وہ سردار بن کے آکھڑا ہوتا تھا اور پہلے سے موجود سردار سے لڑائی بھڑائی شروع کردیتا تھا۔ پھر بعض مورخوں کا خیال ہے کہ بھوٹان سے متصل علاقہ کُوچ بِہار سے آنے والے قبائل نے اور بعض مورخین کا کہنا ہے کہ تبّتی لامہ قبائل نے بھوٹان میں آکر سرداروں کو قابو کیا اور وہاں دو ایوانوں پر مشتمل حکومت قائم کی‘ ایک ایوان مذہبی معاملات دیکھتا تھا جبکہ دُوسرا ایوان دُنیوی مسائل دیکھنے کا ذمّے دار تھا۔ اُنیسویں صدی میں دُرک گیالپو قبیلہ سے تعلق رکھنے والے اُگین وانگ چک نامی ایک شخص کو اتفاق رائے سے مُلک کا بادشاہ مقرر کرلیا گیا اور اُسی قبیلے کی بادشاہت تاحال جاری ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اُگین وانگ چک نے ایسا کون سا کارنامہ کیا تھا کہ بھُوٹانی اُس کی نسل کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں اور آج تک اُسی خاندان کی حکومت قائم ہے۔
بھُوٹان کے موجودہ سربراہ کو بادشاہ ضرور کہا جاتا ہے لیکن اُس نے اپنا مزاج بادشاہوں جیسا نہیں رکھا ہے کیونکہ اُس نے اپنی رضا سے اپنی بادشاہت کے اصول اور رواج کو ختم کرکے جمہوری حکومت قائم کردی ہے۔ اُس نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ جب ایک معمولی کارخانے کو چلانے کے لیے باہمی مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ پوری سلطنت کا نظام ایک اکیلا بادشاہ صرف اپنی عقل کو بروئے کار لاکر لوگوں کے مسائل کب تک حل کرے گا۔ بادشاہ نے اپنی نگرانی میں شفّاف انتخابات کرواکر دو قسم کے ایوانوں کی تشکیل کردی‘ ایک ایوان مرکزی معاملات دیکھنے کا ذمّے دار ہے اور دوسرا ایوان علاقائی مسائل و مشکلات دیکھنے اور اُنہیں حل کرنے پر مامور ہے۔ یہ مُلک اگرچہ جرائم سے بِالکل پاک نہیں ہے لیکن دنیا بھر کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ترین درجے پر ہے۔ بھُوٹان میں دن کا دوپہر ہو یا رات کا کوئی بھی پہر‘ لوگ اپنے مال و اَسباب کے ساتھ جہاں چاہتے ہیں وہاں بے خوف اور بے دھڑک آتے جاتے ہیں۔ بھُوٹان میں بیمار پڑنے والے اوروں کی طرح اعصابی تکلیف میں مبتلا تو ضرور نظر آتے ہیں لیکن بیمار کے لواحقین علاج معالجے کے لیے اور مالی معاملات کے حوالے سے بِالکل پریشان دکھائی نہیں دیتے ہیں کیونکہ تمام طرح کے علاج معالجے سرکاری سطح پر اور مفت کیے جاتے ہیں۔ کسی مریض کا علاج کسی وجہ سے اگر اندرونِ مُلک نہیں ہوپاتا ہے تو اُس مریض کو سرکاری خرچے پر بیرونِ مُلک بھیج دیا جاتا ہے۔ یہ سہولت صرف بھُوٹان کے باشندوں کو ہی حاصل نہیں ہے‘ اِس نعمت سے وہ لوگ بھی سرفراز ہو سکتے ہیں جن کا تعلق کسی دوسرے مُلک سے ہوتا ہے خواہ وہ وہاں نوکری کرتے ہیں یا تعلیم کے حصول کے لیے وہاں مقیم ہوتے ہیں یا وہ سَیرو تفریح کے لیے بھوٹان گئے ہوتے ہیں۔ اُس طلسماتی مُلک میں پہلی جماعت سے لے کر بارہ جماعت تک مفت تعلیم دی جاتی ہے جبکہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لائق طالب علموں کو حکومت کی طرف سے بیرونِ مُلک جاکر تعلیم حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ بُوجھنے والے بُوجھ گئے ہوں گے کہ مُلک کا اصل طاقتور کون ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حکومت قائم طاقتور شخص وٹان میں ہوتا ہے بھ وٹان ہوتی ہے م لک کا کے لیے
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :