وفاقی سرکاری اداروں کیلیے رمضان کے اوقاتِ کار تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت کے ماتحت سرکاری اداروں کے لیے رمضان المبارک کے اوقاتِ کار جاری کردیے گئے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق ہفتے میں 5 دن کھلنے والے دفاتر کے اوقاتِ کار صبح 9 بجے سے دوپہر 3 بجے تک ہوں گے۔ ہفتے میں 6 دن کام کرنے والے دفاتر صبح 9 بجے سے 2 بجے تک کام کریں گے جبکہ جمعے کے روز سرکاری دفاتر کے اوقاتِ کار صبح 9 بجے سے ساڑھے 12 بجے تک مقرر کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں سندھ حکومت نے رمضان المبارک کے دوران سرکاری دفاتر کے اوقات کار سے متعلق باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق پیر سے جمعرات تک دفاتر کا وقت صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک مقرر کیا گیا ہے جب کہ جمعے کے روز سرکاری دفاتر صبح 10 بجے سے دوپہر 1 بجے تک کھلے رہیں گے۔صوبائی حکومت کے مطابق یہ اوقات سندھ حکومت کے تمام سرکاری، خودمختار، نجی اداروں اور لوکل کونسلز پر لاگو ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔