اربوں روپے کے بجٹ، ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات اور بلند بانگ دعوؤں کے باوجود کوئٹہ کے نوجوان آج بھی جدید کھیلوں کی سہولیات سے محروم ہیں۔ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت منظور ہونے والے جدید سپورٹس کمپلیکس تاحال کاغذوں تک محدود ہیں، جس نے حکومتی ترجیحات اور منصوبہ بندی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) 2020-21 کے تحت بلوچستان میں جدید سپورٹس کمپلیکس کے قیام کا ایک اہم منصوبہ منظور کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد صوبے کے نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنا اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنا تھا۔ منصوبے کی مجموعی لاگت ایک ارب 31 کروڑ روپے رکھی گئی، جبکہ ابتدائی مرحلے میں 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔

 6 جدید اسٹیڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ

منصوبے کے تحت کوئٹہ کے مختلف علاقوں، خصوصاً سریاب روڈ، کچلاک اور دیگر مضافاتی علاقوں میں ایوب اسٹیڈیم کی طرز پر 6 جدید اسٹیڈیم تعمیر کیے جانا تھے۔ تاہم، منظوری کے کئی سال گزرنے کے باوجود ان منصوبوں پر عملی پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔

خصوصی طور پر سریاب روڈ پر ریڈیو پاکستان سینٹر کی زمین پر قائم کیے جانے والے سپورٹس کمپلیکس کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کے لیے ایک ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کیے گئے، مگر اب تک صرف ڈھائی کروڑ روپے خرچ کیے جا سکے ہیں، جو منصوبے کی رفتار اور سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے۔

مزید برآں، مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں بھی اس منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، تاہم زمینی سطح پر ترقیاتی کاموں کی رفتار نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔

دوسری جانب وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری اسپورٹس درہ بلوچ نے کہا کہ سریاب روڈ پر نوجوانوں کے لیے اسپورٹس کمپلیکس بنائے جانے کا منصوبہ تھا، جس کے لیے حکومت بلوچستان نے ریڈیو پاکستان کی زمین کو چنا تھا۔ تاہم ریڈیو پاکستان ایمپلائز کی جانب سے عدالتی کیس دائر کر دیا گیا، جس کے بعد عدالت نے اس منصوبے پر سٹے دے دیا۔ دوسری جانب حکومت بلوچستان نو کلی کے علاقے میں نیا سپورٹس کمپلیکس بنانے جا رہی ہے، جبکہ اس کے علاوہ ڈی ایچ اے میں بھی قائم کیے جانے والا سپورٹس کمپلیکس حکومتی تعاون سے بنایا جا رہا ہے۔

کھیلوں کے منصوبوں میں تاخیر محض انتظامی مسئلہ؟

تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں کھیلوں کے منصوبوں میں تاخیر محض انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ پالیسی سطح پر عدم توجہ کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق کھیلوں کی سہولیات نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور انہیں منفی رجحانات سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر سپورٹس کمپلیکس بروقت مکمل کیے جاتے تو نہ صرف مقامی سطح پر ٹیلنٹ کو فروغ ملتا بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی بلوچستان کے کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے تھے۔ ان کے مطابق تاخیر کے باعث نوجوان گلی کوچوں اور غیر معیاری میدانوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ترقیاتی فنڈز کے باوجود منصوبوں کی تکمیل نہ ہونا گورننس کے مسائل اور نگرانی کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مختص فنڈز کو شفاف اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو نہ صرف کھیلوں کا فروغ ممکن ہے بلکہ اس سے مقامی معیشت اور سماجی استحکام پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سپورٹس کمپلیکس کے منصوبوں کو فوری مکمل کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو جدید سہولیات فراہم ہو سکیں اور صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سپورٹس کمپلیکس صوبہ بلوچستان کوئٹہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سپورٹس کمپلیکس صوبہ بلوچستان کوئٹہ سپورٹس کمپلیکس کروڑ روپے کھیلوں کی کے مطابق کیے جا کے لیے

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا