وزیراعظم غزہ امن بورڈ اجلاس میں شرکت کرکے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کی حمایت کریں گے: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم واشنگٹن میں ہونے والے غزہ امن بورڈ اجلاس میں شرکت کرکے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کی حمایت کریں گے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین کےحوالے سےاجلاس ہوا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غزہ میں اسرائیلی بربریت اور سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالی۔اسحاق ڈار نے اسرائیلی جارحیت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان غزہ میں جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتا ہے، اسرائیل مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزی کر رہا ہے، انہوں نے زور دیا کہ سیز فائر کا احترام کیا جانا چاہیے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مستقل امن کےلیے باہمی احترام پر مبنی سفارت کاری کو ضروری قرار دیا اور واضح کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار تمام صورتحال میں لازم و ملزوم ہے، فلسطینیوں کےحق خودارادیت کا احترام کیے بغیرکوئی حل قابل عمل نہیں۔نائب وزیراعظم نے غزہ سےفلسطینیوں کو بےدخل کرنے کے اسرائیلی اقدام کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف غزہ امن بورڈ میں شرکت کے لیے امریکا پہنچ گئے ہیں، وزیراعظم کی امریکی قیادت اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔