تفتان میں گیس باؤزر میں دھماکے سے خوفناک آگ بھڑک اٹھی، 4 افراد جھلس گئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
تفتان:
تفتان میں ایل پی جی ٹینکر میں دھماکے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ اسسٹنٹ کمشنر سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے سرحدی شہر تفتان کے کسٹم ہاؤس کے قریب ایک کھڑا ایل پی جی ٹینکر میں اچانک شدید آگ بھڑک اٹھی۔ آگ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں ضلعی انتظامیہ موقع پر پہنچ گئی۔
ریسکیو آپریشن کے دوران ایل پی جی ٹiنکر میں زور دار دھماکہ ہوا۔ یہ حادثہ رات دیر گئے پیش آیا جس سے قریبی بازار اور آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق ٹینکر میں گیس لیکیج یا تکنیکی خرابی کی وجہ سے آگ لگی جو تیزی سے پھیل گئی۔
آگ پر قابو پانے کی کوششوں کے دوران ٹینکر میں دھماکہ ہوا جس سے شعلے بلند ہو کر قریبی علاقوں تک پہنچ گئے۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنائی دی اور آگ نے تقریباً ایک درجن گوداموں اور قریبی آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
حادثے میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا جبکہ اسسٹنٹ کمشنر نعیم شاہوانی تفتان سمیت 6 افراد جھلس کر زخمی ہوئے۔
آگ پر 70 فیصد قابو پا لیا گیا ہے لیکن مکمل طور پر بجھانے کا آپریشن جاری ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کی اصل وجہ گیس ٹرانسپورٹیشن میں احتیاط کی کمی یا تکنیکی خرابی ہو سکتی ہے۔ اس واقعے نے سرحدی علاقوں میں گیس کی ہینڈلنگ اور حفاظتی تدابیر پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ٹینکر میں
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔