ایس آئی ایف سی کے اصلاحاتی اقدامات سے پاکستان میں توانائی کی پیداوار میں تاریخی اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایس آئی ایف سی کے اصلاحاتی اقدامات سے پاکستان میں توانائی کی پیداوار میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی مؤثر معاونت اور رہنمائی کے باعث توانائی کے شعبے میں اہم اور دیرپا کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق او جی ڈی سی ایل ملک میں یومیہ توانائی پیداوار میں اضافے کے لیے غیر ملکی کمپنیوں سے معاہدوں اور جدید تکنیکی اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ اسی سلسلے میں او جی ڈی سی ایل نے کنڑ اور پاساکھی آئل فیلڈز میں جدید واٹر انجیکشن سسٹمز کے قیام کے لیے فرانسیسی کمپنی SNF S.
اس معاہدے کے تحت متعلقہ فیلڈز کی مجموعی پیداوار میں 9 ملین بیرل خام تیل اور 3 بلین کیوبک فٹ گیس کے اضافے کی توقع ہے، جس سے قومی خزانے کو تقریباً 460 ملین ڈالر آمدنی حاصل ہونے کا امکان ہے۔ او جی ڈی سی ایل نے جدید تکنیکی اقدامات کے ذریعے خام تیل کی یومیہ پیداوار کو 750 بیرل تک پہنچا دیا ہے۔
حکام کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد پرانی فیلڈز کی اضافی استعداد کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانا اور مقامی وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے۔ توانائی کی پیداوار میں یہ نمایاں اضافہ خود انحصاری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ قومی خود کفالت اور معاشی استحکام کو بھی مضبوط بنائے گا۔
ایس آئی ایف سی کی مؤثر ہم آہنگی اور پالیسی رہنمائی کے باعث توانائی کے شعبے میں ہونے والی یہ پیش رفت ملکی ترقی کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا قدم قرار دی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایس آئی ایف سی پیداوار میں
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔