data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارت کی نام نہاد ٹیکنالوجیکل ترقی کو اجاگر کرنے کے لیے منعقد کی گئی مرکزی اے آئی سمٹ اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گئی جب ایک بھارتی جامعہ کی جانب سے چینی ساختہ روبوٹک ڈاگ کو اپنی تخلیق قرار دینے کا دعویٰ بے نقاب ہوگیا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق نئی دہلی میں ہونے والی اس کانفرنس کے دوران گالگوٹیا یونیورسٹی کے اسٹال پر پیش کیا جانے والا روبوٹک ڈاگ دراصل چین میں تیار کیا گیا ماڈل تھا، جسے یونیورسٹی کی پروفیسر نہا سنگھ نے اپنی ٹیم کی ایجاد کے طور پر پیش کیا۔

یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی شدید تنقید کی زد میں آگیا۔ ٹیکنالوجی ماہرین اور بین الاقوامی مبصرین نے فوری طور پر نشاندہی کی کہ مذکورہ روبوٹ چینی کمپنی کا تیار کردہ کمرشل پراڈکٹ ہے، جس کی تفصیلات پہلے ہی عالمی مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

معاملہ شدت اختیار کرنے پر بھارتی حکام کو مداخلت کرنا پڑی اور یونیورسٹی کو سمٹ میں اپنا اسٹال بند کرنے کا حکم دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق کانفرنس کے دوران بدانتظامی، سست رفتار انٹرنیٹ اور بعض اسٹالز سے آلات کی چوری جیسے واقعات بھی سامنے آئے، جس سے انتظامی صلاحیت پر مزید سوالات اٹھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھارت کے ’میک اِن انڈیا‘ بیانیے کے لیے دھچکا ہے، جو ملک کو عالمی ٹیکنالوجی حب کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کسی دوسرے ملک کی تیار کردہ مصنوعات کو اپنی ایجاد قرار دینا نہ صرف علمی دیانت کے خلاف ہے بلکہ عالمی سطح پر ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس واقعے نے بھارت کے ترقی اور جدت سے متعلق دعوؤں کو مشکوک بنا دیا ہے۔

عالمی میڈیا میں اس خبر کے نمایاں ہونے کے بعد بھارت کو سفارتی سطح اور ساکھ کے محاذ پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر ایسے واقعات کی شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو مستقبل میں بین الاقوامی تعاون متاثر ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا