عماد وسیم کی شادی کے بعد ثانیہ اشفاق پہلی بار منظر عام پر، اہم رازوں سے پردہ اٹھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم کی سوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ راجہ سے شادی کے بعد ان کی سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق کی جانب سے شدید نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اپنے بیانات میں ثانیہ اشفاق نے عماد وسیم پر سنگین دعوے کرتے ہوئے انہیں اپنے بچے کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا۔
ثانیہ اشفاق نے حال ہی میں ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے وزیرِاعظم پاکستان اور وفاقی وزیرِداخلہ محسن نقوی سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔
View this post on Instagram
A post shared by Shoaib Shahid Rajput (@what_shoaib_saw)
اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ وہ انتہائی حوصلے کے ساتھ اپنی بات ریکارڈ کر رہی ہیں اور اپنے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق انہیں اپنے تین بچوں سمیت کسی قسم کی مالی معاونت فراہم نہیں کی جا رہی۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ دسمبر 2023 میں ان کا زبردستی اسقاطِ حمل کرایا گیا، جس کے شواہد ان کے پاس موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اس معاملے پر آواز اٹھانے کی کوشش کی تو انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی گئی اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم بھی چلائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: عماد وسیم میرے بچے کا قاتل ہے، ویڈیو ثبوت موجود ہیں، سابق اہلیہ کے سنگین الزامات
ثانیہ اشفاق نے اسلام آباد یونائیٹڈ کی انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال کا نوٹس لے اور پاکستان سپر لیگ میں کرکٹر کی شرکت پر نظرِثانی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک عوامی شخصیت کو اپنے اقدامات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، اور بقول ان کے ’نقاب پہن کر دنیا کو کچھ اور دکھانا اور حقیقت میں کچھ اور ہونا درست عمل نہیں‘ لہٰذا متعلقہ فرنچائز کو مناسب کارروائی کرنی چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان سپر لیگ پاکستانی کرکٹ پی ایس ایل ثانیہ اشفاق شہباز شریف عماد وسیم محسن نقوی نائلہ راجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان سپر لیگ پاکستانی کرکٹ پی ایس ایل ثانیہ اشفاق شہباز شریف محسن نقوی نائلہ راجہ ثانیہ اشفاق
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔