امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، ممکنہ حملے کی قیاس آرائیاں، خطے کی صورتحال غیر یقینی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر امریکا اور ایران کی بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں سنگین حالات کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکری اور سفارتی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور اعلیٰ سطحی مشاورت جاری ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق امریکی فوج نے خطے میں اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی محدود یا وسیع کارروائی کی جاتی ہے تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
ممکنہ پیش رفت کے پیش نظر اسرائیل میں بھی سیکورٹی ادارے متحرک ہو گئے ہیں۔ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، قریبی محفوظ مقامات سے آگاہ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ کسی امریکی اقدام کی صورت میں ایران جوابی کارروائی کر سکتا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کی موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے اور معمولی ہلچل بھی وسیع پیمانے پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پس پردہ رابطے بھی جاری ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ کسی بھی عسکری تصادم کے معاشی اور سیاسی نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔