امریکا آنے والے چند دنوں میں ایران پر حملہ کر سکتا ہے، اسرائیل بھی الرٹ، امریکی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے جہاں امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا رواں ہفتے کے اختتام تک ایران کے خلاف محدود یا وسیع فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
میڈیا رپورٹس میں حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ممکنہ کارروائی سے متعلق عسکری اور سفارتی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ اس معاملے پر مسلسل مشاورت اور غور و فکر میں مصروف ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی فوج نے خطے میں اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ممکنہ امریکی کارروائی کے خدشات کے باعث اسرائیل میں بھی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، قریبی بنکرز کی معلومات رکھنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
اسرائیلی سکیورٹی اداروں کا خدشہ ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو تہران جوابی کارروائی کے طور پر میزائل حملے کر سکتا ہے، جس سے خطے میں وسیع پیمانے پر کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔