مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے جہاں امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا رواں ہفتے کے اختتام تک ایران کے خلاف محدود یا وسیع فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

میڈیا رپورٹس میں حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ممکنہ کارروائی سے متعلق عسکری اور سفارتی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ اس معاملے پر مسلسل مشاورت اور غور و فکر میں مصروف ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکی فوج نے خطے میں اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

ممکنہ امریکی کارروائی کے خدشات کے باعث اسرائیل میں بھی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، قریبی بنکرز کی معلومات رکھنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

اسرائیلی سکیورٹی اداروں کا خدشہ ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو تہران جوابی کارروائی کے طور پر میزائل حملے کر سکتا ہے، جس سے خطے میں وسیع پیمانے پر کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان