Al Qamar Online:
2026-07-24@02:04:19 GMT

بھارت:مساجد میں لاﺅڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

بھارت:مساجد میں لاﺅڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی؟

اندور:بھارت میں مودی کی ہندو سرکار جہاں مسلمانوں کی قتل و غارت کررہی ہے وہیں مسلمانوں کو معاشی،مذہبی ،سماجی طور پر بھی مفلوج بنانے کی سازشوں میں بھی مصروف ہے۔

تازہ واقعے میں ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے اندور میں میئر نےمساجد میں لاﺅڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی لگا نے کا مطالبہ کردیا ہے۔

 اندور کے میئر نے مذہبی مقامات کے میناروں پر لگے لائوڈ اسپیکرز کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

 میئر پشیامتر بھارگو کو گزشتہ کئی دنوں سے شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے لائوڈ اسپیکر ضبط کر لیے گئے ہیں، لیکن مساجد کے میناروں پر لگے لائوڈ اسپیکر اب بھی مختلف اوقات میں بڑے پیمانے پر صوتی آلودگی کا باعث بن رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ اونچائی پر نصب اسپیکر آس پاس کے علاقوں میں صوتی آلودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔

 میئر نے بتایا کہ انہیں صوتی آلودگی کی سب سے زیادہ شکایات وارڈ 72 (لوکمانیہ نگر)، وارڈ 41 اور وارڈ 48 کے مکینوں سے موصول ہوئی ہیں۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ میناروں پر بلند لائوڈ اسپیکر سے آواز پورے علاقے میں پھیل جاتی ہے، جس سے روزمرہ کی زندگی میں خلل پڑتا ہے۔

میئر نے وضاحت کی کہ شہر میں سال بھر مقابلہ جاتی امتحانات اور اسکولی امتحانات منعقد ہوتے ہیں۔ اس سے طلباءکی تیاری متاثر ہوتی ہے اور بوڑھوں اور بیماروں کے لیے بھی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ اگر ڈی جے اور دیگر آواز کے آلات پر پابندی لگائی جا سکتی ہے تو مذہبی مقامات پر نصب بلند لائوڈاسپیکر کے خلاف بھی ایسی ہی کارروائی کی جانی چاہیے۔

 انہوں نے کہا کہ انہوں نے کلکٹر کو اس مسئلہ سے آگاہ کیا ہے اور فوری کارروائی کی توقع ہے۔

میئر نے یاد دلایا کہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی ہدایت پر اس معاملے پر پہلے ہی ریاستی سطح پر ہدایات جاری کر دی گئی تھیں اور کارروائی بھی کی گئی تھی۔

 انہوں نے کہا کہ اگر دوبارہ ایسے لائوڈ اسپیکر لگائے گئے تو انتظامیہ اس کی تفصیلی تحقیقات کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انہوں نے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا