پاک انڈس اے آئی ویک منظم، جبکہ انڈیا اے آئی سمٹ تنازعات اور بد انتظامی کی نذر
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
خطے میں منعقد ہونے والی 2 بڑی مصنوعی ذہانت کانفرنسوں کا موازنہ اس وقت زیر بحث ہے جب پاکستان میں منعقدہ ’پاک انڈس اے آئی ویک‘ کو منظم اور ہموار انتظامات پر سراہا جا رہا ہے، جبکہ دہلی میں ہونے والی انڈیااے آئی امپیکٹ سمٹ (India AI Impact Summit) کو بدانتظامی اور تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید پڑھیں: چینی روبوٹ کو اپنی ایجاد ظاہر کرنے پر بھارتی کمپنی کی عالمی سطح پر سُبکی
بھارت میں سمٹ کے آغاز پر طلبا کو رجسٹریشن کے باوجود داخلے سے روکے جانے، صبح 7 بجے سے قطاروں میں لگنے، گیٹس اچانک بند کیے جانے اور انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔ سوشل میڈیا پر بھی انتظامی مسائل موضوع بحث بنے اور دوسرے روز بھارتی آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو کو عوامی معذرت کرنا پڑی۔
India’s AI Summit or Modi PR Show
Chinese Robot Passed Off as Indian Innovation pic.
— Congress (@INCIndia) February 18, 2026
اسی دوران ایک نیا تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب گلگوٹیاس یونیورسٹی (Galgotias University) کی پروفیسر نہا سنگھ نے چینی کمپنی Unitree Robotics کے تیار کردہ “Go2” روبو ڈاگ کو اپنی یونیورسٹی کی ایجاد قرار دیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے روبوٹ کی اصل شناخت کرلی، جس پر یونیورسٹی کو وضاحت دینا پڑی اور معاملہ سمٹ کی ساکھ پر اثر انداز ہوا۔
pic.twitter.com/6locYz5QaL
— Galgotias University (@GalgotiasGU) February 18, 2026
دوسری جانب پاکستان میں منعقدہ اے آئی ایونٹ کے دوران نہ کسی انخلا کی خبر سامنے آئی، نہ طلبا کے پھنسنے کی شکایات، نہ وائی فائی کی ناکامی اور نہ ہی عوامی معذرت کی ضرورت پیش آئی۔ سیشنز بروقت منعقد ہوئے، مندوبین کو باقاعدہ داخلہ ملا اور پالیسی مباحث ہی سرخیوں میں رہے۔
مزید پڑھیں: چینی روبوٹ کو اپنی ایجاد ظاہر کرنے پر بھارتی یونیورسٹی کو اے آئی امپیکٹ سمٹ سے باہر کر دیا گیا
تجزیہ کاروں کے مطابق جہاں بھارت کو لاجسٹکس اور تنازعات کا سامنا رہا، وہیں پاکستان نے پیچیدہ انتظامات کو مؤثر انداز میں سنبھال کر آپریشنل صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی عالمی ٹیکنالوجی ایونٹ میں انتظامی شفافیت اور پیشہ ورانہ نظم و نسق ہی اصل کامیابی کا پیمانہ ہوتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Galgotias University India AI Impact Summit Unitree Robotics انڈیا اے آئی سمٹ بھارتی آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو پاک انڈس اے آئی ویک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا اے آئی سمٹ بھارتی آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو پاک انڈس اے آئی ویک اے آئی
پڑھیں:
جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
امریکا نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکامی کے الزام پر پاکستان سمیت 60 معیشتوں پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ مجوزہ اقدام کے تحت پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلے سے قبل عوامی مشاورت اور سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف کی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوگی۔ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس تجویز پر عوامی رائے طلب کی جائے گی اور متعلقہ فریقین کو اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی رکاوٹوں کے بعد اپنی تجارتی اور ٹیرف پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
چند ماہ قبل واشنگٹن نے اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں، جن میں چین، یورپی یونین اور جاپان شامل ہیں، کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا یہ ممالک جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں، اور اس کا امریکی تجارت پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔
منگل کو جاری بیان میں امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے کہا کہ 54 معیشتیں ایسی پائی گئیں جنہوں نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی مؤثر انداز میں نافذ نہیں کی۔
اس فہرست میں چین، ویتنام، تائیوان، برطانیہ اور بھارت سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔
مزید چھ معیشتوں کینیڈا، ایکواڈور، یورپی یونین، انڈونیشیا، میکسیکو اور پاکستان کے بارے میں کہا گیا کہ اگرچہ ان کے پاس متعلقہ قوانین موجود ہیں، تاہم وہ ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد کا مسئلہ حل نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس فرق کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور تمام تجارتی شراکت داروں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ عالمی تجارت جبری مشقت کے فروغ کا ذریعہ نہ بنے۔
پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کی تجویزامریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق پاکستان، کینیڈا، یورپی یونین، میکسیکو، انڈونیشیا، ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایل سلواڈور، گواٹے مالا، ملائیشیا، تائیوان اور برطانیہ سمیت بعض دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر جبری مشقت سے متعلق تحقیقات کے تناظر میں 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب باقی 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا منصوبہ ہے۔
بعض اشیا مستثنیٰ ہوں گیمجوزہ ٹیرف کے اطلاق سے بعض اشیا کو استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔
اسی طرح کینیڈا اور میکسیکو سے شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت درآمد ہونے والی مصنوعات بھی ان محصولات سے مستثنیٰ رہیں گی۔ کچھ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کو بھی رعایت دی جائے گی۔
امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے عوام، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ سماعتوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 20 فروری کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ عارضی 10 فیصد ٹیرف کی مدت 24 جولائی کو ختم ہونے والی ہے۔
یاد رہے کہ 20 فروری کو ہی امریکی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کیے گئے بعض ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نئے قانونی راستوں کے ذریعے اپنی تجارتی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں