بدنامِ زمانہ چھوٹو گینگ کیس، سپریم کورٹ کے جج اور وکیل میں دلچسپ مکالمہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
بدنام زمانہ چھوٹو گینگ کے سربراہ سمیت دیگر ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس ملک شہزاد اور وکیل کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا ہے۔
جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی، اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ سزائے موت کا مقدمہ 2 رکنی بینچ نہیں سن سکتا۔
پراسیکیوٹر رائے اختر حسین نے کہا کہ یہ مقدمہ مشہور چھوٹو گینگ کا ہے۔
جسٹس شہزاد احمد ملک نے کہا کہ چھوٹو گینگ تو پنجاب میں بڑا مشہور تھا، ویسے اب تو سی سی ڈی نے سب ختم کر دیا ہے، سی سی ڈی والے تو مقدمات لڑنے والے وکیل کو بھی لے گئے تھے۔
بیوی کو قتل کرنے والے منشیات کے عادی شوہر کی اپیل سپریم کورٹ نے خارج کر دی اور شوہر وارث مسیح کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
جس پر وکیل نے کہا کہ میں بھی چھوٹو گینگ کی طرف سے پیش ہو رہا ہوں تاہم محفوظ ہوں، کیس کی اگلی سماعت منگل کے روز کی جائے۔
جسٹس شہزاد احمد ملک نے وکیل سے کہا کہ منگل کی تاریخ مانگ رہے ہیں، استخارہ تو نہیں کر کے آئے؟
وکیل نے کہا کہ بابرکت مہینہ ہے اسی مہینے ورلڈ کپ جیتا تھا، جس پر جسٹس عقیل احمد عباسی نے کہا کہ اس ورلڈ کپ کا ذکر نہ کیا کریں۔
جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ کچھ لوگوں کو اس ورلڈ کپ کا ذکر ناگوار گزرتا ہے۔
چھوٹو گینگ کے وکیل نے کہا کہ چیمپئن ٹرافی بھی رمضان میں جیتی گئی تھی۔
جسٹس ملک شہزاد نے وکیل سے کہا کہ پہلے تو نہیں اٹھائے گئے، ایسا نہ ہو اب کچھ ہو جائے۔
سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جسٹس ملک شہزاد سپریم کورٹ نے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔