گل پلازہ میں آگ کا درجہ حرارت 1200 ڈگری تھا، چیف فائرافسر
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد میں گل پلازہ آتشزدگی کے دل دہلا دینے والے حقائق جوڈیشل کمیشن کے سامنے آرہے ہیں، جہاں جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہونیوالے اجلاس میں ریسکیو اداروں، فائر بریگیڈ اور انتظامیہ کی کارکردگی پر کڑے سوالات اٹھائے گئے۔
کمیشن کو بتایا گیا کہ گل پلازہ میں ایمرجنسی لائٹس نہیں تھیں، گراؤنڈ فلور پر راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، ٹریفک جام ہونے سے فائربریگیڈ کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہوا، اوپر جانے اور دوسری منزل سے اترنے کے راستے بند تھے۔
چیف فائرافسر نے بیان دیا کہ بجلی بند ہونا انسانی جانوں کے ضیاع کی وجہ تھی، اگر اعلان ہوتا کہ چوکیدار دروازے کھول دیں تو بہت سے لوگ بچ سکتے تھے۔
سندھ ہائیکورٹ میں گل پلازہ انکوائری کمیشن کا اجلاس جسٹس آغا فیصل کی صدارت میں ہوا۔کمیشن نے ریسکیو 1122کے سربراہ کو روسٹرم پر طلب کیا۔
ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ نے بیان دیا کہ تمام آلات موجود تھے، دھویں کی موجودگی میں ماسک اور دیگر آلات کے ساتھ عمارت میں داخل ہوا جا سکتا ہے، تیسرے درجے کی آگ میں درجہ حرارت 800 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور دنیا میں کوئی حفاظتی سوٹ تیسرے درجے کی آگ میں کام نہیں کرتا۔
جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ عمارت میں دھواں بھر گیا تھا، دھویں کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، کیا دیوار توڑ کر دھواں باہر نہیں نکالا جا سکتا تھا؟ ڈی جی واجد صبغت اللہ نے کہا کہ 8 ہزار اسکوائر فٹ پرگل پلازہ تعمیر تھا۔
گرائونڈ فلور اور میز نائن فلور پر لوگ موجود تھے، لوگ شاید یہ سمجھے کہ آگ پر قابو پا لیا جائیگا۔
کمیشن کے سربراہ نے استفسار کیا کہ جب گل پلازہ میں رات میں لائٹ بند ہو گئی اور دھواں بھر گیا، آپ کی رائے میں لائٹ بند کرنے کا کیا اثر ہوا؟
ڈی جی نے کہا کہ گراؤنڈ فلور پر لوگوں کو راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، لائٹ بند کرنا ضروری تھا، ایس او پی ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں بجلی بند کی جائے۔
جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ آپ کو سوال نامہ دے رہے ہیں یہ جمع کر ادیجیے گا۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے ایم سی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔انہوں نے بیان دیا کہ ہمیں 10 بج کر 26 منٹ پر گل پلازہ میں آگ لگنے کی اطلاع ملی، 10 بجکر 27 منٹ پر فائر ٹینڈر روانہ ہوا۔
جو سامنے لوگ تھے انہیں بچایا، 15 فائر ٹینڈر، 2 اسنارکل اور 3 باؤزر موقع پر روانہ ہوئے، 10 بجکر 45 پر مجھے اطلاع ملی اور روانہ ہوا، گل پلازہ میں ہرطرف آگ لگی تھی، اسنارکل لوگوں کو ریسکیو کررہی تھی،
ٹریفک جام کی وجہ سے گاڑیوں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا تھا، فائر ٹینڈر پر سیڑھیاں لگا کر لوگوں کوریسکیو کیا گیا۔
آگ کی شدت بہت زیادہ تھی، کھڑکیاں کاٹ کر 5 سے 6 افراد کی لاشیں نکالیں،آدھے گھنٹے بعد سامنے کاحصہ گرا اور ریمپ کا راستہ بلاک ہو گیا، آگ کا درجہ حرارت 1200ڈگری ریکارڈ کیا، پانی بھی فورا بھاپ بن جاتاہے۔
پہلی اور دوسری منزل پر گرل اورکھڑکیاں کاٹی ہیں، پہلے اور دوسری منزل کی سیڑیاں بند تھیں۔
سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن نے ریسکیو اداروں کو بھی طلب کرلیا
سانحہ گل پلازہ: بروقت امداد نہ ملنے سے نعشوں کے ڈھیر لگ گئے
جسٹس آغافیصل نے استفسار کیا کہ آپ کے آلات کی حالت تسلی بخش ہے؟ ہمایوں خان نے کہا کہ ہمارے پاس ساری گاڑیاں مکمل فعال حالت میں ہیں۔
جسٹس آغا نے استفسار کیا کہ پانی کی ترسیل کا ذریعہ صرف ٹینکر ہے؟ پانی کی ترسیل مسلسل کیسے ہو سکتی ہے؟ شہر میں ٹریفک کی صورتحال ہے کیسے پہنچتے ہونگے؟
چیف فائر افسر نے کہا کہ فائر اسٹیشن میں پانی کے ٹینک موجود ہی نہیں ہوتے تھے، مستقل حل یہ ہے کہ واٹر کارپوریشن کی لائن فائر اسٹیشن میں موجود ہونا چاہیے۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ آگ لگنے کی وجوہات کیا تھیں؟چیف فائر افسر نے کہا کہ ہمیں علم نہیں۔
کمیش کے سربراہ نے پوچھا کہ آگ پھیلنے کی وجوہات کیا تھیں؟ چیف فائر افسر نے کہا کہ دکانوں میں فالس سیلنگ موجود تھی، جو بہت جلدی آگ پکڑتا ہے اور زیریلا دھواں بھی پیدا ہوتا ہے۔
محمد بلال سرکل انچارج ایدھی جبکہ سید کلیم الرحمن انچارج چھیپا اپنے وکیل لیاقت علی گبول کے ہمراہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ حادثے کے بعد ویلفیئر اداروں کی ایمبولنسز پہنچتی ہیں، فریم ورک اور طریقہ کیا ہوتاہے۔ کمیشن کو بتایا گیا کہ ہمارے کنٹرول روم میں کال آتی ہے، جس کے بعد ایمبولنسز بھیجی جاتی ہیں۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ اس کا کیا رول ہے؟ کمیشن کو بتایا گیا کہ ڈرائیور کا کام یہ ہے کہ زخمی کو اسپتال منتقل کرے۔
کمیشن سربراہ نے پوچھا کہ حکومت کی جانب سے کیا کوئی معاوضہ ادا کیا جاتا ہے؟ جو ڈرائیور وہاں پہنچے انکی فہرست فراہم کریں۔
گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے بتایا کہ 10 بجکر 10 منٹ پر آگ لگی، دکان نمبر 194 شہزاد نے آگ کی اطلاع دی۔
فائر ایکٹینشنفویشر لیکر اوپر گئے، کے الیکٹرک کوفون کیا کہ لوکل شٹ ڈاون کرے، 7 سے 8 منٹ میں پورا علاقہ شٹ ڈاون کیا گیا،
گراونڈ فلور پر 16 راستے تھے سب کھلے تھے۔ جسٹس آغا فیصل نے استفسارکیاکہ ہلاکتوں کی وجوہات سے متعلق آپ کی رائے ہے؟
تنویر پاستا نے کہا کہ دھویں سے ہلاکتیں ہوئیں، دبئی کراکری سے چند قدم کے فاصلے میں مسجدہے۔
وہاں سے بہت سے لوگ نکلے تھے۔صدر گل پلازہ تنویر پاستا کو بھی کمیشن نے آج دوبارہ طلب کرلیا۔کمیشن نے اجلاس آج صبح ساڑھے 10بجے تک ملتوی کردیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل جسٹس ا غا فیصل نے استفسار سے ہلاکتیں ہوئیں گل پلازہ میں چیف فائر ا نے کہا کہ کی وجہ سے کمیشن کے فلور پر
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔