ایف بی آر نے تمام کاروباری ٹرانزیکشنز کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک :فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے ٹیکس چوری روکنے کےلیے تمام کاروباری ٹرانزیکشنز کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کرلیا۔
انکم ٹیکس رولز میں مزید ترامیم سے متعلق مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیاہے، کاروبار کی رئیل ٹائم نگرانی سے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا۔
ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس چوری روکنے اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کےلیے بڑے ری ٹیلرز، پروفیشنلز اور سروس پرووائیڈرز کی کاروباری ٹرانزیکشنز کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔
ڈاکٹرز، وکلاء، اکاؤنٹنٹس اور بڑے شہروں کے ایلیٹ کلب بھی زد میں آئیں گے،اس کے علاوہ ایئر کنڈیشن ریسٹورنٹ، ہوسٹل، گیسٹ ہاؤس، میرج ہالز اور مارکیز بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
بیوٹی پارلرز، سلمنگ، مساج اور ہیئر ٹرانسپلانٹ سینٹر کی بھی نگرانی ہوگی، بڑے نجی ڈاکٹرز، تعلیمی ادارے بھی پی او ایس سسٹم سے مربوط ہونگے، 500 روپے سے زیادہ فیس لینے والے ڈینٹسٹ بھی پابند ہوںگے جبکہ 50 ہزار سے زیادہ فیس والے فوٹو، ویڈیو گرافرزاور ایونٹ مینجرزکی ٹرانزیکشنز کی بھی نگرانی ہوگی۔
پشاور میں دفعہ 144 نافذ، ہوائی فائرنگ اور پتنگ بازی پر پابندی عائد
کوریئر، کارگو سروسز، فارن ایکسچینج ڈیلرز کمپنیز بھی پابند ہونگی، ایکسرے، سٹی سکین اور ایم آر آئی کرنے والی میڈیکل لیبارٹریز، ایک ہزار سے زیادہ ماہانہ فیس والے نجی سکول، کالجز،اور یونیورسٹیز کی بھی نگرانی ہوگی۔
اس کے علاوہ انٹر سٹی ٹریول سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی اس پر عمل کرنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ٹرانزیکشنز کی
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔