پروجیکٹ سِلیکا: ہزاروں سال تک معلومات محفوظ رکھے والی اسٹوریج متعارف
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سائنس دانوں نے معلومات کو محفوظ رکھنے کے ایک ایسے نئے طریقے کا اعلان کیا ہے جسے مستقبل کی اسٹوریج ٹیکنالوجی قرار دیا جا رہا ہے۔
اس جدید ایجاد میں لیزر موڈیفائیڈ گلاس استعمال کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے ڈیٹا کو اس انداز میں محفوظ کیا جا سکتا ہے کہ وہ ہزاروں برس تک برقرار رہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت انسانی تاریخ کے ذخیرے کو طویل مدت تک محفوظ رکھنے میں انقلابی ثابت ہو سکتی ہے۔
دنیا بھر میں ڈیجیٹل معلومات کی پیداوار میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ روایتی ہارڈ ڈسکس اور سرورز محدود عمر رکھتے ہیں اور وقت کے ساتھ خراب ہو سکتے ہیں، جس سے قیمتی ڈیٹا ضائع ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے مائیکرو سافٹ کے سائنس دان ’پروجیکٹ سِلیکا‘ پر کام کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ایک خاص لیزر ٹیکنالوجی کے ذریعے شیشے کے اندر تھری ڈائمنشنل پکسلز، جنہیں ووکسلز کہا جاتا ہے، انکوڈ کیے جاتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے ڈیٹا کو نہ صرف زیادہ پائیدار بنایا جا سکتا ہے بلکہ اسے شدید درجہ حرارت، نمی اور دیگر ماحولیاتی اثرات سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ ماضی میں شیشے پر معلومات محفوظ کرنے کا تصور تو موجود تھا، لیکن ڈیٹا کو مؤثر انداز میں لکھنے اور پڑھنے کا طریقہ کار دستیاب نہیں تھا۔ نئی لیزر ٹیکنالوجی نے اس رکاوٹ کو دور کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر کامیاب ہو جاتی ہے تو آرکائیوز، قومی ریکارڈ، سائنسی ڈیٹا اور ثقافتی ورثے کو صدیوں بلکہ ہزاروں برس تک محفوظ رکھا جا سکے گا۔ اس پیش رفت کو ڈیجیٹل دور کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں معلومات کے تحفظ کے تصور کو یکسر بدل سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔