9 سالہ محبت کا اختتام، انوشے اشرف نے دل ٹوٹنے والوں کو کیا مشورہ دیا؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
پاکستانی اداکارہ انوشے اشرف نے طویل رفاقت کے بعد رشتہ ختم ہونے کی تکلیف سے متعلق کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ انسٹاگرام پر مداحوں کے ساتھ سوال و جواب کے سیشن کے دوران ایک صارف نے بتایا کہ گزشتہ برس اکتوبر میں اُن کا 9 سالہ طویل رشتہ ختم ہوگیا اور وہ اب تک اس صدمے سے باہر نہیں نکل سکیں۔ اس پر انوشے اشرف نے کہا کہ کسی کے ساتھ 9 سال گزارنا یقیناً ایک طویل عرصہ ہوتا ہے اور اتنے لمبے تعلق کے خاتمے کا زخم بھرنے میں وقت لگنا فطری امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بریک اپ کے بعد وقت ایک ٹائم لائن کی طرح گزرتا ہے اور کوئی بھی یہ پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ حالات کب مکمل طور پر بہتر ہوں گے، تاہم ایسے مشکل وقت میں اپنے لیے جینا ہی اصل کمال ہے۔ اداکارہ نے مشورہ دیا کہ انسان کو آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور آج سے ہی اپنی زندگی کو خود کے لیے جینا شروع کرنا چاہیے، نئی جستجو پیدا کرے اور ہر صبح نئے عزم کے ساتھ اٹھ کر ماضی کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ دن یقیناً بہت بھاری محسوس ہوں گے جبکہ کچھ نسبتاً بہتر ہوں گے اور یہی کیفیت دراصل بہتری کی شروعات ہوتی ہے، وقت کے ساتھ ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب انسان اس تکلیف سے مکمل طور پر باہر نکل آتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔