لڑائی جھگڑا و احتجاج کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
لڑائی جھگڑا و احتجاج کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور WhatsAppFacebookTwitter 0 19 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کر لی۔
انسدادِ دہشتگردی کی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف پولیس کے ساتھ لڑائی جھگڑے اور احتجاج کے مقدمے میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی کی جانب سے ریاست علی آزاد نے دلائل میں کہا کہ یہ بے بنیاد مقدمہ بنایا گیا جو اچانک سامنے آگیا، میں خود اس مقدمے میں ملزم ہوں مگر ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ ایف آئی آر درج ہے۔
ریاست علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک من گھڑت اور بے بنیاد واقعے پر ایف آئی آر کاٹی گئی جس کا کوئی وجود نہیں ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا اور دونوں کی ضمانت منظور کرلی۔
عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی بعد از گرفتاری ضمانتیں 10، 10 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کیں۔
ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں مقدمہ درج ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراعتبار ہی نئی طاقت ہے چھوٹوں گینگ کیس؛ دوران سماعت رمضان میں ورلڈکپ جیتنے کے ذکر پر عدالت کے دلچسپ ریمارکس ٹرمپ انتظامیہ ایران کیخلاف بڑے فوجی آپریشن کے قریب ہے: امریکی میڈیا کا دعویٰ پاکستان اور انڈونیشیا کا فلسطین میں منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی مصری ہم منصب سے ملاقات، فلسطین کی صورتحال پر تبادلۂ خیال ضرورت پڑی تو افغانستان میں فضائی کارروائی سے نہیں ہچکچائیں گے، خواجہ آصف وزیراعظم غزہ امن بورڈ اجلاس میں شرکت کیلئے امریکا پہنچ گئےCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔