امریکی محکمہ خارجہ ایک نئے آن لائن پورٹل پر کام کر رہا ہے جس کے ذریعے یورپ اور دیگر علاقوں کے لوگ وہ مواد دیکھ سکیں گے جسے ان کی اپنی حکومتوں نے پابندی کا نشانہ بنایا ہوا ہے، جن میں مبینہ نفرت انگیز مواد اور دہشت گردی سے متعلق پروپیگنڈا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

اس منصوبے سے واقف تین ذرائع کے مطابق اس ویب سائٹ کا نام freedom.

gov رکھا جائے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پورٹل میں ممکنہ طور پر ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک یعنی وی پی این کی سہولت بھی شامل ہو سکتی ہے، جس سے صارف کا انٹرنیٹ استعمال ایسا ظاہر ہوگا جیسے وہ امریکا سے ہو رہا ہو۔ ایک ذریعے کے مطابق اس ویب سائٹ پر صارفین کی سرگرمی کو ٹریک نہیں کیا جائے گا۔

اس منصوبے کی سربراہی محکمہ خارجہ کی انڈر سیکریٹری برائے پبلک ڈپلومیسی سارہ راجرز کر رہی ہیں۔ توقع تھی کہ اس کا اعلان گزشتہ ہفتے میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں کیا جائے گا، تاہم ذرائع کے مطابق یہ اعلان تاخیر کا شکار ہو گیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہےکہ ہم یہ معلوم نہیں کر سکے کہ تاخیر کی اصل وجہ کیا تھی، لیکن دو ذرائع نے بتایا کہ محکمہ خارجہ کے کچھ حکام اور وکلا نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ دوسری جانب محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اعلان میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی اور نہ ہی وکلا نے کوئی اعتراض اٹھایا۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے پاس یورپ کے لیے مخصوص سنسرشپ سے بچنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے، لیکن ڈیجیٹل آزادی محکمہ خارجہ کی ترجیح ہے، جس میں وی پی این جیسی ٹیکنالوجیز کا فروغ شامل ہے۔

یہ منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان پہلے ہی کئی معاملات پر اختلافات موجود ہیں، جن میں تجارت، یوکرین جنگ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پورٹل یورپی قوانین کے خلاف جا کر لوگوں کو مقامی پابندیوں کو نظر انداز کرنے کی ترغیب دینے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

امریکا اور یورپ میں آزادی اظہار کے قوانین میں نمایاں فرق ہے۔ امریکا میں آئین زیادہ تر اظہار کی مکمل حفاظت کرتا ہے، جبکہ یورپی یونین نے نفرت انگیز تقاریر اور انتہا پسند پروپیگنڈے کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے ہیں۔ یورپی قوانین کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے میٹا کے فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز کو غیر قانونی مواد ہٹانے کا پابند کیا جاتا ہے۔

یورپی ریگولیٹرز امریکی کمپنیوں کو مواد ہٹانے کے احکامات دیتے رہتے ہیں اور بعض صورتوں میں جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جرمنی نے 2024 میں دہشت گردی سے متعلق مواد ہٹانے کے سینکڑوں احکامات جاری کیے۔

امریکی حکومت اس سے پہلے بھی چین، ایران، روس، بیلاروس، کیوبا اور میانمار سمیت دیگر ممالک میں آزاد معلومات تک رسائی کے لیے وی پی این اور دیگر ٹیکنالوجیز کی حمایت کرتی رہی ہے، ان کوششوں کا مقصد ایسے ممالک میں انٹرنیٹ صارفین کی مدد کرنا تھا جہاں معلومات تک رسائی محدود ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان

کراچی:

شہر قائد میں سمندری ہواؤں کی رفتار میں کمی کے سبب درجہ حرارت بڑھنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا مطلع جزوی ابر آلود، گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے جبکہ نمی کا تناسب بڑھنے سے گرمی زیادہ محسوس کی جائے گی۔

شہر میں جنوب مغرب سے 8 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے، آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 ڈگری تک بڑھ سکتا ہے۔ آج صبح کم سے کم درجہ حرارت 29 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آج تا اتوار کراچی میں صبح و رات کے اوقات میں کہیں کہیں بوندا باندی کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام