پاکستان کا دہشتگردی کیلئے افغان سرزمین کے استعمال پر سخت احتجاج,افغان سفارتکار کی طلبی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک :دفتر خارجہ پاکستان نے افغان ناظم الامور کو طلب کر کے پاکستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق، افغان نائب سفیر کو ایک باضابطہ احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا ہے جس میں باجوڑ حملے کے لیے افغان سرزمین کے استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 16 فروری کو باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز پر ایک دہشت گرد حملہ ہوا تھا، جس کے لیے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے سرحد پار سے آکر کارروائی کی تھی، اس حملے کے نتیجے میں وطنِ عزیز کے 11 بہادر جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت کا رتبہ پایا تھا۔
پشاور میں دفعہ 144 نافذ، ہوائی فائرنگ اور پتنگ بازی پر پابندی عائد
ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ افغان سرزمین اب بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، ٹی ٹی پی کی پوری قیادت افغانستان میں موجود ہے، ٹی ٹی پی افغان سرزمین سے کھلے عام اور بلاروک ٹوک سرگرم ہے۔
افغان سفارت کار کو بتایا گیا کہ اس طرح کے واقعات دوطرفہ تعلقات اور خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہیں، طالبان کی متعدد یقین دہانیاں کے باوجود بدقسمتی سے ان پر کوئی واضح یا ٹھوس عمل درآمد نظر نہیں آیا۔
برائلر مرغی کی قیمت میں اضافہ
پاکستان نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف موثر اور ٹھوس کارروائی کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔