افغان شہری اپنے ہی جابر حکمرانوں کی دہشتگردی کا نشانہ بننے لگے
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
کابل (نیوز ڈیسک) افغان شہری اب اپنے ہی جابر حکمرانوں کی دہشت گردی کا نشانہ بننے لگے ہیں۔ سخت گیر اور جابرانہ پالیسیوں کے بعد اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے افغان طالبان نے کھلے عام گولیاں برسانا شروع کر دی ہیں۔ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنے والے ملازمین پر ظلم کی انتہا کر دی گئی ہے، جس سے طالبان کی آمریت اور انتہا پسندی مزید بے نقاب ہو گئی ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق صوبہ فراہ میں طالبان اہلکاروں نے بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسٹمز ملازمین کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ طالبان اہلکاروں کی فائرنگ سے متعدد مظاہرین کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کسٹمز ملازمین طالبان رجیم کی جانب سے برطرفیوں اور تنخواہوں میں کٹوتی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جس پر طاقت کے بے دریغ استعمال کا مظاہرہ کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان اپنی آمریت کو طول دینے کے لیے جائز حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو بھی بندوق کے زور پر دبانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اقتدار پر قابض طالبان ٹولے نے قانون اور انصاف کو یکسر نظر انداز کر کے اپنے ہی شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ طالبان حکمرانی عوام کے لیے مزید مشکلات اور عدم تحفظ کا سبب بن رہی ہے۔
https://mnews.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔