افغانستان میں کوئی بھی طالبان سے تعلقات منقطع نہیں کرنا چاہتا، یورپ
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
خصوصی نمائندے گیلس برٹرینڈ نے کہا ہے کہ بعض خیالات کے برعکس افغانستان کے اندر طالبان کے ساتھ مکمل طور پر تعلقات منقطع کرنے کی کوئی سنجیدہ خواہش نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یورپی یونین کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان نے کہاہے کہ افغانستان میں کوئی نہیں چاہتا کہ عالمی برادری طالبان سے تعلقات منقطع کرے۔ تسنیم نیوز کے علاقائی دفتر کے مطابق افغانستان کے لیے یورپی یونین کے خصوصی نمائندے گیلس برٹرینڈ نے کہا ہے کہ بعض خیالات کے برعکس افغانستان کے اندر طالبان کے ساتھ مکمل طور پر تعلقات منقطع کرنے کی کوئی سنجیدہ خواہش نہیں ہے اور اصولی اور مشروط طور پر اس کے باوجود مسلسل مصروفیت کو ضروری سمجھا جاتا ہے، میں نے افغانستان کے اندر سے ایسی کوئی آواز نہیں سنی جس میں کہا گیا ہو کہ ہمیں بات چیت کو مکمل طور پر منقطع کر دینا چاہیے۔ انہوں نے ہشت صبح کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ دنیا نے جب بھی افغانستان کی طرف منہ موڑا ہے اسے بڑے نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یورپی یونین کے خصوصی نمائندے نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم نے کبھی افغانستان نہیں چھوڑا، کابل میں اپنی سفارتی موجودگی برقرار رکھی اور افغان عوام کے لیے اصولی شمولیت اور حمایت کی پالیسی پر عمل کیا۔ انہوں نے افغانستان کی موجودہ تشویشناک صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت بدستور نازک ہے اور لاکھوں لوگ زندہ رہنے کے لیے انسانی امداد پر منحصر ہیں۔خواتین کے حقوق کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں عائد پابندیاں نہ صرف انسانی حقوق کے حوالے سے ناقابل جواز ہیں، بلکہ اس سے ملک کے سماجی اور اقتصادی مستقبل کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔
یورپی سفارت کار نے زور دے کر کہا کہ یورپی یونین کی امداد کا مقصد براہ راست افغان عوام کے لیے ہے اور اس کا مطلب طالبان کی سیاسی حمایت نہیں ہے۔ گیلس برٹرینڈ نے مزید کہا کہ یہ امداد اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور این جی اوز کے ذریعے تقسیم کی جائے گی تاکہ اسے حکمران حکام کی جانب سے بطور آلہ استعمال یا ضبط کرنے سے روکا جا سکے۔ یورپی یونین کے خصوصی نمائندے نے کہا کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا اسی صورت میں ممکن ہو گا جب بین الاقوامی برادری کی جانب سے طے شدہ شرائط کو پورا کیا جائے، جس میں ایک جامع حکومت کی تشکیل، انسانی حقوق کا احترام اور افغانستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری شامل ہے۔ بصورت دیگر بین الاقوامی پابندیوں اور پابندیوں سمیت موجودہ صورتحال برقرار رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یورپی یونین کے خصوصی نمائندے افغانستان کے تعلقات منقطع کے لیے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔