صیہونی فوج کا شامی سرزمین پر حملہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ 7 فوجی گاڑیوں پر مشتمل اسرائیلی فوج کا گشتی یونٹ درعا کے مغربی مضافات میں واقع "المصراطیہ" گاؤں میں داخل ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ شامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ الجولانی حکومت کی خاموشی کے سائے میں اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر شام کی سرزمین پر حملہ کیا ہے۔ تسنیم نیوز کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق، اسرائیلی حکومت نے الجولانی حکومت کی خاموشی کے سائے میں آج بروز بدھ ایک بار پھر شام کی سرزمین پر بلا کسی رکاوٹ کے حملہ کیا اور ملک کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی کی۔ شامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ 7 فوجی گاڑیوں پر مشتمل اسرائیلی فوج کا گشتی یونٹ درعا کے مغربی مضافات میں واقع "المصراطیہ" گاؤں میں داخل ہوا۔ یہ اس وقت ہے جب اسرائیلی حکومت شام کی سرزمین پر قبضہ کرنے اور اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرنے کے علاوہ شامی شہریوں کو اغوا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔