اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری، مالیاتی مشیر کی تقرری کے لیے مذاکراتی کمیٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، نجکاری کمیشن بورڈ نے مالیاتی مشیر کی تقرری کے لیے ایک مذاکراتی کمیٹی قائم کردی ہے، فی الحال ایئرپورٹ آپریشنز کی آؤٹ سورسنگ کا ارادہ ہے، جس کا مقصد آپریشنل کارکردگی میں بہتری، مسافروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور حکومتِ پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرنا ہے۔
نجکاری کمیشن کے مطابق مشیرِ نجکاری محمد علی کی زیر صدارت بورڈ اجلاس میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نجکاری سے متعلق مختلف امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ ممکنہ مالیاتی مشاورتی خدمات کے معاہدے کی شرائط پر بات چیت کے لیے مذاکراتی کمیٹی کی منظوری دی گئی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا عالمی اعزاز، دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ہم پلہ قرار
اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ پرائیویٹائزیشن کمیشن ریگولیشنز 2018 کے تحت کیا گیا ہے، جو بورڈ کے اس سابقہ فیصلے کا تسلسل ہے جس کے تحت ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی منظوری دی گئی تھی۔ مذاکراتی کمیٹی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ قابلِ اطلاق ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق بات چیت کرے اور اپنی سفارشات بورڈ کو منظوری کے لیے پیش کرے۔
بورڈ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نجکاری کا عمل کھلے، شفاف اور مسابقتی طریقہ کار کے تحت انجام دیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت رعایتی ماڈل کے ذریعے ایئرپورٹ آپریشنز کی آؤٹ سورسنگ کا ارادہ ہے، جس کا مقصد آپریشنل کارکردگی میں بہتری، مسافروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور حکومتِ پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ بورڈ نے نجکاری کے تمام لین دین شفاف، اصول پر مبنی اور عوامی مفادات کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نجکاری کمیشن بورڈ نے قانونی تقاضوں کے مطابق مالی سال 2024-25 کے لیے نجکاری کمیشن کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کی بھی منظوری دے دی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق حکومتی کوششوں میں اب تک کوئی حتمی پیشرفت نہ ہونے پر اس معاملے کو نجکاری کمیشن کے سپرد کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا اعزاز، سن فلاور ربن کا اجرا
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اوپن اور مسابقتی بولی کے ذریعے ایئرپورٹ آؤٹ سورس کرنے کی کوشش کی، تاہم صرف ایک بولی موصول ہونے اور اس کے ریزرو پرائس پر پورا نہ اترنے کے باعث یہ عمل ناکام ہو گیا، بعد ازاں گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ بنیاد پر آؤٹ سورسنگ کا آپشن اختیار کیا گیا، جو انٹر گورنمنٹل کمرشل ٹرانزیکشن ایکٹ 2022 کے تحت تھا، مگر یہ طریقہ بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکا۔
وزیرِ دفاع کے مطابق ان تمام ناکام کوششوں کے بعد اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا معاملہ باضابطہ طور پر وزارتِ نجکاری کے سپرد کر دیا گیا تھا، جو آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرائیویٹائزیشن کمیشن ریگولیشنز 2018 نجکاری، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نجکاری وفاقی وزیر دفاع خواجہ ا صف اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی مذاکراتی کمیٹی آؤٹ سورسنگ کا کی آؤٹ سورسنگ نجکاری کمیشن کے مطابق کیا گیا کے تحت کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔