صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا کراچی کے علاقے سولجر بازار میں عمارت گرنے کے واقعے پر اظہارِ افسوس
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کراچی کے علاقے سولجر بازار میں عمارت کے منہدم ہونے کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صدرِ مملکت نے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے متعلقہ اداروں کو ریسکیو آپریشن فوری اور مؤثر انداز میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی غفلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے اور تمام متاثرہ افراد کو بروقت امداد فراہم کی جائے۔
صدرِ مملکت نے سندھ حکومت کو ہدایت کی ہے کہ عمارتوں کی حالت کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے، گیس سلنڈرز کے محفوظ استعمال کو یقینی بنایا جائے اور بلڈنگ کوڈز پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔
صدر نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اس افسوسناک واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کرے اور ذمہ دار عناصر کا تعین کر کے ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔