کراچی:

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے رات گئے شہر قائد کے مختلف علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو کام کی رفتار تیز کرنے اور معیار برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

میئر کراچی نے اولڈ سٹی ایریا، جہانگیر روڈ اور ہدایت اللہ روڈ پر جاری کارپیٹنگ کے کام کا جائزہ لیا اور منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق موقع پر بریفنگ حاصل کی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اولڈ سٹی ایریا میں جاری ترقیاتی کاموں کے مثبت اثرات پورے شہر پر پڑیں گے اور ٹریفک کی روانی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

بعدازاں میئر کراچی نے شاہراہ فیصل پر جاری بیوٹیفکیشن منصوبے کا معائنہ کیا۔

انہوں نے متعلقہ افسران اور عملے کو ہدایت دی کہ رمضان المبارک کے پیش نظر شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں اور عیدالفطر سے قبل کام مکمل کرنے کو یقینی بنایا جائے۔

میئر کراچی کا کہنا تھا کہ انہیں مزید بریفنگ کی ضرورت نہیں بلکہ عملی نتائج درکار ہیں، اس لیے کام مقررہ مدت میں مکمل کرکے شہریوں کی شکایات کا ازالہ کیا جائے۔



گل پلازہ آتشزدگی، ریسکیو آپریشن، میئر کراچی کی موقع پر نگرانی



میئر کراچی نے واٹر ٹینکر سروس بند کرنے کا بیان واپس لے لیا، وضاحت جاری



میئر کراچی سے تند و تیز سوالات کیوں کیے، تابش ہاشمی نے وضاحت کردی

انہوں نے واضح کیا کہ جہانگیر روڈ شہر کی اہم شاہراہوں کو آپس میں ملاتی ہے، اس لیے اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

مرتضیٰ وہاب نے یہ بھی کہا کہ ترقیاتی کاموں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا اور مکمل انسپیکشن کے بعد ہی ٹھیکیدار کو ادائیگی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ عوامی وسائل شفاف انداز میں خرچ کیے جائیں گے اور تمام تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ عید سے قبل جہانگیر روڈ کی کم از کم ایک ٹریک ٹریفک کے لیے کھول دی جائے گی تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کم ہو سکیں۔

میئر کراچی نے شہریوں کو یقین دلایا کہ کچھ انتظار کے بعد شہر میں بہتر انفراسٹرکچر اور سہولیات میسر آئیں گی۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل میئر کراچی نے انہوں نے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال