نیٹ میٹرنگ سے متعلق وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
وفاقی حکومت نے 8 فروری تک جمع شدہ نیٹ میٹرنگ درخواستوں سے متعلق اہم فیصلہ کرلیا۔
وفاقی وزیر پاور سردار اویس لغاری نے 8 فروری 2026 تک جمع شدہ درخواستوں کو پرانے ریگولیشنز کے تحت پراسس کرنے کے احکامات جاری کردیے۔
8فروری تک کی درخواستوں کو تمام بجلی تقسیم کارکمپنوں بشمول کے۔الیکٹرک نیٹ میٹرنگ کی سہولت میسر ہوگی، تمام بجلی تقسیم کارکمپنوں کو فوری عمل درآمد کے احکامات جاری کیے گئے۔
اس وقت تمام تقسیم کمپنیوں بشمول کے-الیکٹرک میں کل 5165درخواستیں 8فروری تک جمع ہیں، ان درخواستوں کے تحت کل 250.
قائمہ کمیٹی کی نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی پرتنقید
’سیٹھوں کی بجلی سستی کرنےکےلیے گھریلو صارفین پرحملہ‘ نیٹ میٹرنگ پالیسی پر حکومت کوسخت تنقید کاسامنا
نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر صارفین کی منتقلی کے فیصلے پرعمل درآمد روک دیا گیا
وفاقی وزیر پاور کے اس فیصلے سے موجودہ درخواستوں سے متعلق ابہامات ختم ہوگئے
وفاقی وزیر کا درخواستوں کے پراسس میں شفافیت برقرار رکھنے کے احکامات بھی دیے۔
وفاقی وزیر نے بجلی صارفین کو کسی بھی شکایات کی صورت میں 188پر درج کرنے کی درخواست کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر نیٹ میٹرنگ
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔