اسرائیلی قدغنیں مزید سخت، مسجد اقصیٰ میں جمعہ کے لیے صرف 10 ہزار نمازیوں کو داخلے کی اجازت
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یروشلم: اسرائیلی حکام نے رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی مقبوضہ مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینیوں کے لیے مسجد اقصیٰ میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے صرف 10 ہزار نمازیوں کو داخلے کی اجازت دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو فلسطینی حلقوں میں مذہبی آزادی پر قدغن اور مقدس مقامات کے معاملات میں مداخلت قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مسجد اقصیٰ میں داخلے کے خواہشمند فلسطینیوں کو پیشگی خصوصی اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا، جب کہ ہر درخواست کو سیکیورٹی کلیئرنس کے مرحلے سے بھی گزارا جائے گا،اجازت ملنے کے باوجود واپسی پر ڈیجیٹل اندراج لازم ہوگا تاکہ نقل و حرکت کی مکمل نگرانی کی جا سکے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق داخلے کے لیے عمر کی سخت حدیں مقرر کی گئی ہیں، جن کے تحت مردوں کی کم از کم عمر 55 سال، خواتین کی 50 سال جبکہ 12 برس تک کے بچوں کو صرف قریبی رشتہ دار کے ہمراہ آنے کی اجازت ہوگی۔ یہ تمام پابندیاں صرف مقبوضہ مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینیوں پر لاگو ہوں گی، جسے اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے احاطے سے امام شیخ محمد العباسی کو حراست میں لے لیا، جس پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، گرفتاری کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی گئی، تاہم اس اقدام کو مسجد کے تقدس اور انتظامی معاملات میں براہِ راست مداخلت قرار دیا جا رہا ہے۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امام کی گرفتاری اور نمازیوں پر عائد پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی حیثیت کو متاثر کرنے اور فلسطینیوں کو ان کے بنیادی مذہبی حقوق سے محروم کرنے کی ایک اور کوشش ہیں،ایسے ہتھکنڈے نہ صرف اشتعال انگیزی کو ہوا دیتے ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ رمضان المبارک کے دوران عام حالات میں لاکھوں فلسطینی مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے پہنچتے ہیں، تاہم 2023 میں غزہ پر جاری جنگ کے بعد سیکیورٹی پابندیوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث نمازیوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، اور اس سال بھی اسی نوعیت کی سختیوں کے باعث حاضری محدود رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ