مقبوضہ کشمیر، بھارتی حکومت منشیات کو دانستہ طور پر فروغ دے رہی ہے
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
مقبوضہ وادی کشمیر میں منشیات استعمال کرنے والوں میں سے 90% حیرت انگیز طور پر 17-35 سال کی عمر کے گروپ میں آتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں تقریباً 70ہزار افراد منشیات کی لت میں مبتلا ہیں۔ بھارتی حکومت منشیات کی خرید و فروخت کو دانستہ طور پر فروغ دے رہی ہے جس کی وجہ سے معاملہ سنگین شکل اختیار کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) سری نگر کے شعبہ نفسیات اور محکمہ سماجی بہبود نے اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔ مقبوضہ وادی کشمیر میں منشیات استعمال کرنے والوں میں سے 90% حیرت انگیز طور پر 17-35 سال کی عمر کے گروپ میں آتے ہیں، حالیہ برسوں میں منشیات کے استعمال میں 1500% اضافہ ہوا ہے۔ ایک مقامی رہائشی کا کہنا ہے کہ صورتحال تشویشناک ہے اور ہمیں اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ہم حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ منشیات کی سپلائی کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ وادی کشمیر میں لوگوں کا کہنا ہے کہ حکام معاملے کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دے رہے ہیں اور ایسا لگ رہا کہ علاقے میں منشیات کے پھیلائو کے پیچھے ایک مذموم مقصد کار فرما ہے اور بھارتی حکومت اسے دانستہ طور پر فروغ دے رہی ہے۔ایک مقامی کارکن نے کہا یہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہے کہ نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور قابض حکام آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے عزم کو کمزور کرنے اور بھارت سے آزادی کی جدوجہد سے ہماری توجہ ہٹانے کی دانستہ کوشش ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارت ہمیں اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہرگز زیر نہیں کر سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں منشیات
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔