سونا عوام کی پہنچ سے مزید دور، قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
عالمی ومقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 79ڈالر کے اضافے سے 5ہزار 012ڈالر کی سطح پر آگئی۔
عالمی مارکیٹ میں اضافے کے بعد ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 7ہزار 900روپے کے اضافے سے 5لاکھ 23ہزار 962روپے کی سطح پر آگئی۔
اس کے علاوہ فی دس گرام سونے کی قیمت 6 ہزار 773روپے بڑھ کر 4لاکھ 49ہزار 212روپے کی سطح پر آگئی۔
فی تولہ چاندی کی قیمت 358روپے کے اضافے سے 8ہزار 404روپے کی سطح پر آگئی، فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 7205روپے کے اضافے سے 7ہزار 205روپے کی سطح پر آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی سطح پر آگئی کے اضافے سے کی قیمت
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔