ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس کیساتھ لڑائی جھگڑے اور احتجاج کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کر لی۔ انسداددہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی،عدالت نے 10، 10 ہزار روپے کے مچلکوں کی عوض ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی کے وکیل ریاست علی آزاد نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ بے بنیاد مقدمہ بنایا گیا اور اچانک سے سامنے آگیا،میں خود اس مقدمہ میں ملزم ہوں مگر ہمیں پتا ہی نہیں تھا یہ ایف آئی آر ہے۔ وکیل نے کہا کہ یہ ایک من گھڑت اور بے بنیاد واقعہ پر ایف آئی آر کاٹی گئی جس کا وجود ہی نہیں ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا اور ضمانتیں منظور کر لیں، ایمان مزاری اور ہادی علی کیخلاف تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔