لڑائی جھگڑا و احتجاج کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کر لی۔
انسدادِ دہشتگردی کی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف پولیس کے ساتھ لڑائی جھگڑے اور احتجاج کے مقدمے میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی کی جانب سے ریاست علی آزاد نے دلائل میں کہا کہ یہ بے بنیاد مقدمہ بنایا گیا جو اچانک سامنے آگیا، میں خود اس مقدمے میں ملزم ہوں مگر ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ ایف آئی آر درج ہے۔
پشاور میں دفعہ 144 نافذ، ہوائی فائرنگ اور پتنگ بازی پر پابندی عائد
ریاست علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک من گھڑت اور بے بنیاد واقعے پر ایف آئی آر کاٹی گئی جس کا کوئی وجود نہیں ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا اور دونوں کی ضمانت منظور کرلی۔
عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی بعد از گرفتاری ضمانتیں 10، 10 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کیں۔
ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں مقدمہ درج ہے۔
برائلر مرغی کی قیمت میں اضافہ
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔