لڑائی جھگڑا و احتجاج کیس، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کر لی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف پولیس کے ساتھ لڑائی جھگڑے اور احتجاج کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی اور فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا۔
انسانی حقوق کی وکیل رہنما ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو متنازع ٹوئٹس کیس میں سزا سنادی گئی۔
عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی بعد از گرفتاری ضمانتیں 10، 10 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لیں۔
ایمان مزاری اور ہادی علی کی جانب سے ریاست علی آزاد نے دلائل میں کہا کہ یہ بے بنیاد مقدمہ بنایا گیا جو اچانک سامنے آ گیا، میں خود اس مقدمے میں ملزم ہوں مگر ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ ایف آئی آر درج ہے۔
ریاست علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک من گھڑت اور بے بنیاد واقعے پر ایف آئی آر کاٹی گئی جس کا کوئی وجود نہیں ہے۔
واضح رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں مقدمہ درج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی ہادی علی چٹھہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔