اسٹاک ایکسچینج میں زبردست دباؤ، 100 انڈٰیکس میں تقریباً 4 فیصد کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کوشدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس سی 100 انڈیکس جمعرات کو تقریباً 4 فیصد کم ہوگیا۔
بینچ مارک انڈیکس میں دن بھر مستقل کمی کا رجحان برقرار رہا، چھوٹے ریباؤنڈ کے باوجود خریدار کسی بھی مثبت رفتار کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔
اختتامی ٹریڈنگ کے اوقات میں فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا، جس سے انڈیکس دن کے کم ترین مقام 171,647.
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، انڈیکس میں 1,500 سے زائد پوائنٹس کی کمی
اختتام پر، بنیادی انڈیکس 172,170.29 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 6,682.80 پوائنٹس یعنی 3.74 فیصد کی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔
اسٹاک ماہرین کے مطابق مارکیٹ دباؤ میں ہے کیونکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور امریکا-ایران کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو ماند کر دیا ہے۔
دوسری جانب غیر ملکی سرمایہ کاروں کے علاوہ، مقامی سرمایہ کار بھی محتاط ہو گئے ہیں، جس سے فروخت کے دباؤ میں اضافہ ہوا۔
Market Close Update: Negative Today! ????
???????? KSE 100 ended negative by -6,682.8 points (-3.74%) and closed at 172,170.3 with trade volume of 229 million shares and value at Rs. 22.16 billion. Today's index low was 171,647 and high was 179,280. pic.twitter.com/VII1mphbiJ
— Investify Pakistan (@investifypk) February 19, 2026
سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی کھوج کرنے والی کمپنیز، آئل مارکیٹنگ، بجلی پیدا کرنے اور ریفائنری سیکٹر جیسے اہم شعبوں میں فروخت کا رجحان غالب رہا۔
میزان بینک، مسلم کمرشل بینک، سوئی ناردرن گیس، پاکستان اسٹیٹ آئل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، ماری انرجیز، حبکو، اٹک ریفائنری لمیٹڈ اور نیشنل بینک جیسے انڈیکس میں وزن رکھنے والے اسٹاک ریڈ زون میں ٹریڈ ہوئے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
ادھر وزیراعظم کے مشیر برائے پرائیویٹائزیشن محمد علی کی سربراہی میں پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ نے ایک مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
کمیٹی ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے ساتھ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی ممکنہ پرائیویٹائزیشن سے متعلق مالی مشاورتی خدمات کے معاہدے کی شرائط پر بات چیت ممکن بنائے گی۔
مزید پڑھیں: معاشی اشاریے مضبوط، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تاریخ کی نئی بلندی چھو لی
گزشتہ روز یعنی بدھ کو اسٹاک مارکیٹ میں فیصلہ کن بحالی دیکھی گئی، کیونکہ جارحانہ خریداری نے بنیادی انڈیکس کو تیزی سے اوپر دھکیل دیا۔
حالیہ سیشنز میں ہوئے شدید نقصان کا کچھ حصہ واپس لے لیا۔ یہ بحالی ادارہ جاتی اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی مضبوط شرکت سے ممکن ہوئی۔
کیونکہ حالیہ تصحیح کے بعد ویلیو ہنٹنگ کا رجحان سامنے آیا، کے ایس سی 100 انڈیکس 178,853.10 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر، جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس میں اضافہ ہوا، وال اسٹریٹ پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں بہتری سے حمایت ملی۔
جبکہ امریکا-ایران کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں اور سونے میں محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان نے مدد فراہم کی۔
مزید پڑھیں: معاشی اشاریے مضبوط، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تاریخ کی نئی بلندی چھو لی
کرنسی مارکیٹ میں، ڈالر مضبوط ہوا کیونکہ فیڈرل ریزرو کے حالیہ اجلاس کے منٹس سے ظاہر ہوا کہ پالیسی ساز شرح سود میں کمی کے لیے جلدی میں نہیں ہیں۔
ایشیا میں مارکیٹ میں تجارت کم رہی، کیونکہ ہانگ کانگ، چین اور تائیوان میں لونر نیو ایئر کی تعطیل تھی۔
لیکن ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسیفک کے وسیع انڈیکس نے جاپان کے علاوہ 0.5 فیصد اضافہ کیا، اور جاپان کا نکی 0.85 فیصد بڑھا، جس کی قیادت ٹیکنالوجی کے شیئرز نے کی۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی، انڈیکس پہلی بار 181 ہزار پوائنٹس عبور کرگیا
جنوبی کوریا کا کوسپی تقریباً 3 فیصد بڑھ کر ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گیا۔
یہ وال اسٹریٹ پر ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں اضافے کے بعد ہوا، جس میں میٹا پلیٹ فارمز کے ساتھ ملٹی ایئر ڈییل کی خبر نے اثر ڈالا، جس کے تحت یہ کمپنی مستقبل میں اپنی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی چپس کے لاکھوں یونٹس فروخت کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹک ریفائنری لمیٹڈ اسٹاک ایکسچینج پاکستان پاکستان اسٹیٹ آئل ریفائنری سیکٹر کمرشل بینک میزان بینک نیشنل بینک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج پاکستان پاکستان اسٹیٹ ا ئل ریفائنری سیکٹر اسٹاک ایکسچینج میں پاکستان اسٹاک مزید پڑھیں کا رجحان
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔