ایران کے خلاف کسی بھی نئے امریکی حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، روسی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
ایران کے خلاف کسی بھی نئے امریکی حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، روسی وزیر خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 19 February, 2026 سب نیوز
ماسکو (سب نیوز) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئے امریکی حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حل تلاش کریں جس سے ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کو آگے بڑھا سکے۔ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری لیویٹ نے ایک باقاعدہ پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں “کچھ پیش رفت ہوئی ہے” لیکن “کچھ کلیدی معاملات پربڑے اختلافات بدستور موجود ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ ایران آنے والے ہفتوں میں امریکہ کو مزید تفصیلات فراہم کرے گا۔ اس سوال پر کہ آیا ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے کوئی آخری مہلت مقرر کی ہے، لیویٹ نے کہا کہ وہ اس نوعیت کے سوال کا جواب دینے کی مجاز نہیں ہیں۔
ادھر ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ مذاکرات اور فوجی تیاری ایران کے مفادات کے تحفظ کے لیے دو باہم تکمیلی حکمت عملیاں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی دفاعی افواج مکمل جنگی تیاریوں کی حالت میں ہیں اور دیگر ضروری انتظامات پہلے سے کر لیے گئے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرصدر ایف پی سی سی آئی کا ڈی ایل ٹی ایل نوٹیفکیشن کا خیرمقدم صدر ایف پی سی سی آئی کا ڈی ایل ٹی ایل نوٹیفکیشن کا خیرمقدم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خواتین کی مالی امداد میں اضافہ اسلام آباد؛ امام بارگاہ حملے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ کو امدادی رقوم کے چیکس تقسیم نیٹ میٹرنگ سے متعلق وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ پی ایچ ایف کے صدر عہدے سے مستعفی، ہاکی ٹیم کے کپتان پر پابندی لگاگئے ازبکستان سے پاکستان برآمدات: ازبکستان ایئرویز کی پروازوں کے ذریعے تیز اور محفوظ کارگو ترسیلCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایران کے خلاف
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز