سوات؛ فارسٹ افسر پر 6 کروڑ کی خرد برد کا الزام، 9 کروڑ فنڈز ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کرنیکا بھی انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے سوات میں تعینات ڈویژنل فارسٹ آفیسر پر 6 کروڑ 66 لاکھ روپے کی خرد برد کا الزام عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ متعلقہ افسر نے مزید تقریباً 9 کروڑ سے زائد سرکاری فنڈز اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے۔ محکمہ خزانہ کے مطابق مؤثر مالی نگرانی کے نظام کے باعث بے ضابطگیوں کی نشاندہی ممکن ہوئی۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مبینہ طور پر پہلے چیک بیلنس کی تصدیق کی جاتی اور کلیئرنس سے قبل چیک میں درج رقم کو ہندسوں اور الفاظ دونوں میں تبدیل کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں تبدیل شدہ چیکس نیشنل بینک سیدو شریف، سوات میں لازمی تقاضے پورے کیے بغیر کلیئر کیے گئے۔ محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ جعلی لین دین مقررہ مالی ضوابط سے ہٹ کر اور متعلقہ اکاؤنٹس آفس کی شمولیت کے بغیر انجام دیے گئے۔ سات سال کے عرصے میں فیڈرل ٹریژری رولز سمیت دیگر سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں۔ اطلاع ملنے پر محکمہ خزانہ نے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس اور بینک حکام سے رابطہ کیا، جس کے بعد 93 لاکھ روپے ریکور کر کے سرکاری خزانے میں جمع کروا دیے گئے۔ محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا نے محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات و جنگلی حیات کو خط لکھتے ہوئے ملوث ملازم یا ملزمان کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرنے اور ان کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے لیے کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں پیش رفت کے ساتھ مزید معلومات جاری کی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔