سرپرست اعلیٰ جمعیت اہل حدیث کا کہنا ہے کہ دانشمندی کا تقاضا ہے کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ کا حصہ رہے، چیف جسٹس از خود کارروائی کے تحت عمران خان کے ساتھ بدسلوکی ، ملاقات نہ ہونے کا نوٹس لیں۔ اسلام ٹائمز ۔ جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سرپرست اعلیٰ اور اے آر ڈی کے سابق سیکرٹری جنرل قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے سینیٹر مراد سعید کا استعفیٰ بے وقت کی راگنی اور فضول اقدام ہے، لگتا ہے کہ تحریک انصاف کو پھر ورغلایا جا رہا ہے، جیسے پہلے خیبر پختونخواہ اور پنجاب اسمبلی تحلیل کر کے مشکلات پیدا کی گئی تھیں کہ اپنی آواز بلند کرنے کا پی ٹی آئی کے پاس کوئی فورم ہی موجود نہ تھا، دانش مندی اور حالات کا تقاضا ہے کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ کا حصہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ استعفے کسی صورت دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا، سابق وزیر اعظم عمران خان کا علاج حکومت کی ذمہ داری ہے، اسے ہر صورت پورا کیا جانا چاہیے، اس حوالے سے ہسپتال منتقل کرنا اور طبی سہولیات دینا، اس کا استحقاق ہے اور حکومت کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔

لاہور میں کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا علاج سے کسی بھی قیدی یا شہری کو محروم نہیں کیا جا سکتا، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کا فیصلہ قابل مذمت ہے، جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا عدلیہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس از خود کارروائی کے تحت عمران خان کے ساتھ بدسلوکی اور ملاقات نہ ہونے کا نوٹس لیں۔

انہوں نے کہا افسوسناک بات ہے کہ عدلیہ بھی اپنا آئینی کردار حقیقی معنوں میں ادا نہیں کر رہی، عدلیہ کا حکومتی تیور دیکھ کر فیصلے کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، عدلیہ کو اپنی اتھارٹی منوانی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی نے کہا

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان