بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا الزام، مارک زکربرگ کی عدالت میں وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
امریکا کے شہر لاس اینجلس میں جاری ایک اہم مقدمے کے دوران میٹا کے بانی مارک زکربرگ عدالت میں پیش ہوئے۔
مارک زکربرگ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی کمپنی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بچوں کو اپنی جانب راغب کرنے یا ان کا اسکرین ٹائم بڑھانے کے مقصد سے تیار نہیں کیا گیا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران وکلا نے زکربرگ سے 2024 میں کانگریس کے سامنے دیے گئے ان کے بیان سے متعلق سوالات کیے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کمپنی اپنی ٹیموں کو ایپس پر صارفین کا وقت زیادہ سے زیادہ بڑھانے کا ہدف نہیں دیتی۔ تاہم مدعی کے وکیل نے عدالت میں 2014 اور 2015 کی ای میلز پیش کیں، جن میں ایپس پر صارفین کے گزارے گئے وقت میں نمایاں اضافے کے اہداف کا ذکر موجود تھا۔
اس پر زکربرگ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں صارفین کے وقت سے متعلق اہداف ضرور موجود تھے، لیکن کمپنی نے بعد ازاں اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی۔ انہوں نے عدالت میں کہا کہ اگر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ان کا کانگریس میں دیا گیا بیان درست نہیں تھا تو وہ اس سے سختی سے اختلاف کرتے ہیں۔
Meta CEO Mark Zuckerberg leaves a Los Angeles courthouse after testifying in a landmark tech addiction case against Meta and YouTube.
یہ پہلا موقع ہے کہ میٹا پلیٹ فارمز کے سربراہ نے عدالت میں پیش ہو کر انسٹاگرام کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر ممکنہ اثرات سے متعلق براہِ راست گواہی دی ہے۔
ماہرین کے مطابق لاس اینجلس میں جیوری کے سامنے جاری اس مقدمے کے نتائج کمپنی کے لیے اہم مالی اور قانونی اثرات کا باعث بن سکتے ہیں، کیونکہ کیس ہارنے کی صورت میں ہرجانے کی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔
یہ مقدمہ دراصل ان بڑھتے ہوئے عالمی خدشات کا حصہ ہے جو سوشل میڈیا کے بچوں اور کم عمر صارفین کی ذہنی صحت پر اثرات کے حوالے سے سامنے آ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں آسٹریلیا پہلے ہی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی عائد کر چکا ہے، جبکہ اسپین سمیت دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کی پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے عدالت میں سوشل میڈیا
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔