بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا معائنہ، ماہر ڈاکٹروں کو اجازت نہ مل سکی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے معائنے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق شوکت خانم کے سی ایم او ڈاکٹر عاصم یوسف نے 3 ماہر امراض ریٹینا کے نام تجویز کیے تھے، تاہم ان میں سے کسی ڈاکٹر کو معائنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عاصم یوسف نے تجویز کردہ ڈاکٹروں کے نام سلمان اکرم راجہ کو فراہم کیے تھے, ان ناموں میں الشفاء انٹرنیشنل کے ڈاکٹر عامر اعوان اور میجر جنرل ریٹائرڈ مظہر اسحاق شامل تھے، جبکہ آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف آپتھامالوجی کے سربراہ میجر جنرل وقار مظہر کا نام بھی دیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی قیادت بانی کی آنکھوں کی تکلیف سے 9 فروری سے باخبر تھی، پارٹی ذرائعپاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) قیادت بانی کی آنکھوں کی تکلیف سے متعلق 9 فروری سے باخبر تھی۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ ماہرین کے بجائے الشفاء سے ڈاکٹر ندیم قریشی کو بھیجا گیا، جن کے ساتھ پمز کے ڈاکٹر عارف بھی موجود تھے۔
بتایا گیا ہے کہ شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر خرم مرزا کو اڈیالہ جیل جانے کی اجازت نہ ملنے پر الشفاء کے ڈاکٹر کو روانہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو پہلا انجکشن 25 جنوری کو لگایا گیا تھا جبکہ دوسرا انجکشن 25 فروری کو لگایا جانا ہے، یہ فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا کہ دوسرا انجکشن جیل میں لگایا جائے گا یا اسپتال منتقل کیا جائے گا۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ندیم قریشی کا نام ڈاکٹر عاصم یوسف سے پوچھ کر ہم نے ہی دیا تھا، ڈاکٹر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی چند ہفتے پہلے دیوار پر لگی گھڑی نہیں دیکھ سکتے تھے، ڈاکٹر نے بتایا کہ کل کی ملاقات میں بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ گھڑی نظر آرہی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا ڈاکٹر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ گھڑی کی سوئی بھی نظر آرہی ہے، ڈاکٹر نے کہا یہ حوصلہ افزا ہے ان کی نظر میں حیرت انگیز بہتری ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر عاصم یوسف بانی پی ٹی آئی کے ڈاکٹر ڈاکٹر نے نے کہا
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔