اسرا یونیورسٹی کانووکیشن میں گریجویٹس کا انسانیت کی خدمت کے عزم کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اسرا یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس سے الحاق شدہ میڈیکل کالج کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات نے بدھ کو منعقدہ پُروقار کانووکیشن تقریب کے دوران انسانیت کی بلاامتیاز خدمت اور پیشۂ طب کے اعلیٰ اخلاقی اصولوں کی پاسداری کا عہد کیا۔
حلف برداری کی اس باوقار تقریب میں نو منتخب ڈاکٹروں نے ہمدردی، دیانت، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور انسانی وقار کے احترام کو ہر حال میں مقدم رکھنے کا اعادہ کیا۔
تقریب کی صدارت اسرا یونیورسٹی کے چانسلر اور اسرا اسلامک فاؤنڈیشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ کازی نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ضیا الحق تھے۔ اس موقع پر مجموعی طور پر 289 طلبہ و طالبات میں 12 مختلف شعبہ جات کی ڈگریاں تقسیم کی گئیں۔ ان میں ڈاکٹر آف میڈیسن (پیڈیاٹرکس) کے 2، ایم بی بی ایس کے 112، ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی کے 60، بی ایس میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی کے 19، بی ایس وژن سائنسز کے 58، بی ایس آڈیالوجی کے 13، بی ایس پروستھیٹکس اینڈ آرتھوٹکس کے 3، ایسوسی ایٹ ڈگری میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی کا 1، ایسوسی ایٹ ڈگری ریسپائریٹری تھراپی کے 11، بی ایس الیکٹرانکس کا 1، بی ایس انجینئرنگ ٹیکنالوجی (سول) کے 7 اور بی ایس انجینئرنگ ٹیکنالوجی (الیکٹریکل) کے 2 گریجویٹس شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیے لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کا پُراسرار کمرہ
مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر ضیا الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ 25 کروڑ سے زائد آبادی والے پاکستان میں معیاری اعلیٰ تعلیم کی فراہمی صرف سرکاری شعبے کے بس کی بات نہیں، نجی تعلیمی ادارے اس خلا کو پُر کرنے میں ناگزیر کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرا یونیورسٹی سمیت متعدد نجی جامعات نے محدود سرکاری معاونت کے باوجود نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نجی جامعات کے لیے سہولت دوست پالیسیوں کے فروغ پر کام کر رہا ہے تاکہ معیاری تعلیم کے مواقع میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔
صدرِ تقریب پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ کازی نے کہا کہ اسرا اسلامک فاؤنڈیشن کے تحت کام کرنے والی اسرا یونیورسٹی دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے معیاری تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی کے مشن پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم مضبوط قوموں کی بنیاد ہے اور اسرا کے فارغ التحصیل افراد دنیا بھر میں خدمات انجام دے رہے ہیں جو ادارے کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ انہوں نے گریجویٹس کی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی میں مسلسل رہنمائی اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
وائس چانسلر ڈاکٹر احمد ولی اللہ کازی نے اپنے خطاب میں گریجویٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کانووکیشن صرف ڈگریوں کی تقسیم کی تقریب نہیں بلکہ طلبہ اور ان کے خاندانوں کی برسوں کی محنت، قربانیوں اور خوابوں کی تکمیل کا دن ہے۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ دیانت، لگن اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کو اپنا شعار بنائیں اور اپنی مادرِ علمی، اساتذہ اور ملک کا نام روشن کریں۔
تقریب میں طالبات کی تعداد طلبہ سے زیادہ دیکھی گئی، جو طب کے شعبے میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور اعتماد کا عکاس ہے۔ کانووکیشن کی تمام کارروائی نہایت نظم و ضبط اور وقار کے ساتھ انجام پائی۔ تقریب میں اساتذہ، طلبہ و طالبات اور ان کے اہلِ خانہ کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جبکہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو گولڈ، سلور اور برانز میڈلز بھی دیے گئے۔
منتظمین کے مطابق اسرا یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کا یہ کانووکیشن نہ صرف ادارے بلکہ اس کے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جہاں سے وہ انسانیت کی خدمت، پیشہ ورانہ دیانت اور قومی ترقی کے عزم کے ساتھ اپنی عملی زندگی کا آغاز کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرا یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرا یونیورسٹی اسلام ا باد کیمپس اسرا یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر طلبہ و طالبات فارغ التحصیل پیشہ ورانہ انہوں نے کے لیے کہا کہ بی ایس
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔