وفاقی وزیرتوانائی کا نیٹ میٹرنگ کی جمع شدہ درخواستوں سے متعلق اہم فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر توانائی نے نیٹ میٹرنگ کی جمع شدہ درخواستوں سے متعلق اہم اعلان کردیا۔ 8 فروری تک جمع درخواستوں کو پرانے قواعد کے تحت پراسس کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر کے فیصلے سے موجودہ درخواستوں سے متعلق ابہام ختم ہوگئے۔ وفاقی وزیر نے درخواستوں کے پراسس میں شفافیت برقرار رکھنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اویس لغاری کے مطابق بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنوں کو احکامات پر فوری عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے پاس 8 فروری تک 5 ہزار 165 درخواستیں جمع ہیں۔ ان درخواستوں کے تحت 250 میگاواٹ کیپسٹی نیشنل گرڈ میں شامل ہوگی۔
برطانیہ: بادشاہ چارلس کے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈزر گرفتار
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔