پاکستان ہاکی میں بڑے انتظامی فیصلے سامنے آئے ہیں جہاں قومی ٹیم کے کپتان پر پابندی اور فیڈریشن قیادت میں تبدیلی کی پیش رفت ہوئی ہے۔پاکستان ہاکی فیڈریشن نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر قومی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ پر دو سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔فیڈریشن صدر طارق بگٹی نے پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ داری کے تعین کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔طارق بگٹی نے پریس کانفرنس میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ انہوں نے ٹیم کی بہتری کیلئے بھرپور کوشش کی.

جس کے باعث قومی ٹیم عالمی درجہ بندی میں اٹھارہویں سے تیرہویں نمبر پر آئی۔انہوں نے ہاکی کے فروغ کیلئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور بلوچستان حکومت خصوصاً سرفراز بگٹی کے تعاون کو سراہا۔فیڈریشن کے سیکرٹری رانا مجاہد کے ساتھ مل کر انہوں نے پاکستان اسپورٹس بورڈ کے بعض حکام کو ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ فنڈز کے معاملات میں تاخیر سے ٹیم کو مشکلات کا سامنا رہا۔ان کے مطابق بروقت فنڈز نہ ملنے سے بیرون ملک دوروں کے انتظامات متاثر ہوئے، حالانکہ ٹیم نے ارجنٹائن اور آسٹریلیا میں میچز کھیلنے تھے۔طارق بگٹی نے مزید کہا کہ پرو ہاکی لیگ کے فنڈز اسپورٹس بورڈ کے پاس تھے اور متعدد رابطوں کے باوجود ادائیگیاں تاخیر کا شکار رہیں۔ انہوں نے اس معاملے میں سیاسی سطح پر بھی رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کے ماتحت حکام کو آگاہ کرنے کی بات کی۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی کھلاڑی کے واجبات باقی ہوں تو وہ براہ راست ان سے رابطہ کرے، جبکہ قومی ٹیم ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں شرکت کیلئے 24 فروری کو روانہ ہوگی اور اس کے اخراجات فیڈریشن برداشت کرے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے بعض معاملات کے بھارتی میڈیا تک پہنچنے پر تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ادھر ذرائع کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن پر ایڈہاک کمیٹی بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان ہاکی طارق بگٹی قومی ٹیم انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے