سوشل میڈیا پر خبر گردش کررہی ہے کہ حال ہی میں اسلام آباد انتظامیہ نے شوکت خانم میموریل اسپتال کی فنڈ ریزنگ سرگرمی کے لیے جاری این او سی منسوخ کردیا ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 15 فروری کو ایک سیاسی شخصیت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک نیوز گرافک شیئر کیا گیا۔اس شیئر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کراچی میں شوکت خانم کے لیے منعقد ہونے والی فنڈ ریزنگ تقریب کا اجازت نامہ منسوخ کردیا گیا ہے۔ اس پوسٹ کو مختصر وقت میں بڑی تعداد میں صارفین نے دیکھا، شیئر کیا اور اس پر تبصرے بھی کیے، جس کے بعد یہ خبر مزید پھیل گئی۔تاہم اسپتال کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ وائرل ہونے والی معلومات دراصل ایک پرانے واقعے سے متعلق ہیں۔ یہ معاملہ 29 دسمبر 2023 کا تھا، جب اسلام آباد میں کراچی اسپتال کے لیے منعقد کیے جانے والے ایک فنڈ ریزنگ گالا کا این او سی انتظامیہ نے واپس لے لیا تھا۔

 اسپتال نے واضح کیا کہ اس واقعے کے بعد سے فنڈ جمع کرنے اور کراچی میں زیرِ تعمیر منصوبے پر کام بلا رکاوٹ جاری ہے اور اسپتال کی تکمیل دسمبر 2026 تک متوقع ہے۔اسپتال کے ترجمان نے اس سلسلے میں اسلام آباد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آفس کا دسمبر 2023 کا سرکاری خط بھی شیئر کیا، جس میں اس وقت ہونے والی تقریب منسوخ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ قومی میڈیا اداروں نے بھی اُس وقت اس پیش رفت کی رپورٹنگ کی تھی۔

فیکٹ چیک کے مطابق حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر شیئر کیا جانے والا گرافک دراصل پرانی خبر پر مبنی ہے اور اسے موجودہ حالات سے جوڑ کر پیش کیا جا رہا ہے.

جس سے غلط فہمی پیدا ہوئی۔ اسپتال انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مستند معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر اعتماد کیا جائے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق