تھانہ عزیزآبادکی سرپرستی ،عمیر عرف ببلو کا گٹکا ماوا کارخانہ پھر آبادہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
عمیر عرف ببلو، پارٹنر جنید نے تھانہ عزیزآباد کی سرپرستی میں ہفتے کی عوض کارخانہ آباد کر لیا
بھنگوریہ گوٹھ، محمدی کالونی، بھنگی پاڑا، گلشن شمیم اور بابا فش والی گلی میں گٹکا ماوا کی سپلائی اور فروخت جاری
(رپورٹ؍ ایم جے کے)ڈسٹرکٹ سینٹرل عزیزآباد’ رینجرز کارروائی کے باوجود عمیر عرف ببلو کا گٹکا ماوا کارخانہ پھر آباد، عمیر عرف ببلو، پارٹنر جنید نے تھانہ عزیزآباد کی سرپرستی میں لاکھوں روپے ہفتے کی عوض کارخانہ آباد کر لیا، بھنگوریہ گوٹھ، محمدی کالونی، بھنگی پاڑا، گلشن شمیم اور بابا فش والی گلی میں گٹکا ماوا کی سپلائی اور فروخت جاری۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ سینٹرل تھانہ عزیزآباد کی حدود میں اول نمبر گٹکا ماوا ڈیلر طاہر عرف بوبی کے بعد دوئم نمبر گٹکا ماوا ڈیلر عمیر عرف ببلو اور پارٹنر جنید کا گٹکا ماوا کی سپلائی اور فروخت کا کام کھلے عام جاری ہے، کچھ دن قبل 61 ونگ رینجرز نے عمیر عرف ببلو کے کارخانے پر چھاپہ مار کر لاکھوں روپے مالیت کی چھالیہ، مشینیں اور وہاں کام کرنے والے تین سے چار افراد پکڑے پر رینجرز کی کارروائی کے باوجود دوئم نمبر گٹکا ماوا ڈیلر عمیر عرف ببلو نے تھانہ عزیزآباد ایس ایچ او شاہد تاج اور اس کا خاص بیٹر کامل کی سرپرستی میں لاکھوں روپے ہفتے کے عوض اپنا کارخانہ دوبارہ آباد کرلیا اور روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں گٹکا ماوا کی پڑیاں کارخانے میں بنوا کر بھنگوریہ گوٹھ، محمدی کالونی، بھنگی پاڑا، گلشن شمیم، بابا فش والی گلی، کے تمام کیبنوں پر سپلائی اور فروخت کھلے عام کروا رہا ہے، عمیر عرف ببلو کا تھانہ عزیزآباد کی حدود میں 8 سے زائد کیبن آباد ہوچکے ہیں اور مزید کیبن بڑھائے جانے کے بھی امکانات ہیں، علاقہ مکین عزیزآباد کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او شاہد تاج اور اسکا خاص بیٹر کامل نے لاکھوں روپے ہفتہ کے عوض علاقہ عزیزآباد کو گٹکا ماوا ڈیلروں طاہر عرف بوبی، عمیر عرف ببلو، آصف نیاپو، نعمان بندانی، سلمان لڈو اور جنید کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہے جس کی وجہ سے پورا علاقہ عزیزآباد گٹکا ماوا کی منڈی بن گیا ہے جسکے استعمال سے نئی نسل تباہ ہو رہی ہے، علاقہ عزیزآباد مکین نے مزید کہا کہ سندھ رینجرز، ائی جی سندھ ایڈیشنل ائی جی کراچی ڈی ائی جی ویسٹ زون اور ایس ایس پی سینٹرل فلفور ایکشن لیتے ہوئے گٹکا ماوا ڈیلروں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کریں اور ان تمام سماج دشمن عناصروں کی سرپرستی کرنے پر تھانہ عزیزآباد ایس ایچ او شاہد تاج اور اس کا خاص بیٹر کامل کے خلاف بھی محکمہ جاتی کارروائی کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: تھانہ عزیزا باد کی سپلائی اور فروخت عمیر عرف ببلو گٹکا ماوا کی لاکھوں روپے کی سرپرستی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔